head lines
وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگا دی

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/10/1522494_8569242_tlp_updates-1000x600.jpg&description=وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگا دی', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/10/1522494_8569242_tlp_updates-1000x600.jpg&description=وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگا دی', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
اسلام آباد: وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
حکومت کے مطابق ٹی ایل پی کی سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
⚖️ کابینہ کی منظوری اور قانونی پہلو
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک لبیک پر پابندی کی منظوری دی۔
ذرائع کے مطابق تنظیم کی جانب سے پُرتشدد احتجاج، سڑکوں کی بندش اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
اس سے قبل 2016 میں قائم ہونے والی تنظیم کو مختلف اوقات میں وارننگ نوٹسز بھی دیے گئے تھے، تاہم پرتشدد رویہ برقرار رہنے پر پابندی ناگزیر سمجھی گئی۔
🚔 تحریک لبیک کے خلاف کارروائیاں
حکومت نے تنظیم کے مالی ذرائع، دفاتر اور سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات مشترکہ طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے حکمتِ عملی بنا رہی ہیں۔
📚 تحریک لبیک پر پابندی — پس منظر
تحریک لبیک 2016 میں خادم حسین رضوی کی قیادت میں بنی تھی۔
اس نے مذہبی ایشوز پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔
ماضی میں بھی اس کے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اور املاک کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
head lines
آبی ذخائر کا تحفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے پر سخت مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائر نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں پانی کے تحفظ کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ موقع دیرپا آبی پالیسیوں پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے تک محدود نہیں۔
بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہتری کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ایک موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
چنانچہ یہ دن آبی وسائل کے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
نتیجتاً یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی اثرات سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئرز، جھیلیں اور ساحلی نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






