head lines
خواجہ آصف: فیض حمید سزا یافتہ، مزید قانونی کارروائی ہوگی
خواجہ آصف کی سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس
فیض حمید کو سزا، مزید کارروائی کا اعلان
سب سے پہلے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید کو 15 ماہ کی کارروائی کے بعد سزا سنائی گئی۔
اسی لیے، اب مزید قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ فیض حمید اب جنرل نہیں رہے۔
مزید یہ کہ، ان سے جنرل کا عہدہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
شفاف احتساب اور مزید الزامات
اس کے علاوہ، خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ واقعات کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
ان کے مطابق، فوجی ادارے نے شفاف انداز میں کارروائی کی۔
انہوں نے بتایا کہ فیض حمید کے خلاف مزید چارجز بھی موجود ہیں۔
لہٰذا، ان معاملات پر قانونی عمل جاری رہے گا۔
سیاسی منصوبے کا الزام
دوسری جانب، خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا منصوبہ 10 سے 12 سال پہلے شروع ہوا۔
ان کے بقول، اس منصوبے پر عمل درآمد فیض حمید کی سربراہی میں ہوا۔
اسی طرح، نواز شریف کو ہٹانے کا کردار بھی فیض حمید نے ادا کیا۔
ملک کے ساتھ کھلواڑ کا دعویٰ
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی نے مل کر ملک کو نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو جیل میں ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔
اسی دوران، دھمکیاں اور دباؤ بھی استعمال کیا گیا۔
نواز شریف کا دور اور عدالتی فیصلہ
اسی تناظر میں، خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں ترقی نمایاں رہی۔
تاہم، بعد میں عدالتی کارروائی کے ذریعے انہیں ہٹایا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ من گھڑت بنیادوں پر ہوا۔
مزید مقدمات اور فائدہ اٹھانے والے
علاوہ ازیں، انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس بھی موجود ہے۔
ان کے مطابق، قید اور جلاوطنی کے فیصلوں کے پیچھے بھی وہی تھے۔
نتیجتاً، ان اقدامات کا فائدہ فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کو ہوا۔
9 مئی کے واقعات پر الزام
بعد ازاں، خواجہ آصف نے کہا کہ 9 مئی کی منصوبہ بندی بھی فیض حمید نے کی۔
ان کے بقول، سوچ فیض حمید کی تھی۔
جبکہ، عملی کردار پی ٹی آئی کارکنوں نے ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ کردار اندر سے بھی شامل تھے۔
فوجی قیادت اور کامیابیاں
اسی کے ساتھ، وزیر دفاع نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بڑی کامیابی ملی۔
ان کے مطابق، پاکستان کو عالمی سطح پر عزت حاصل ہوئی۔
مزید یہ کہ، مئی میں پاکستان نے تاریخ رقم کی۔
پی ٹی آئی اور طالبان سے متعلق الزامات
آخر میں، خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف نے ملک کو بحران سے نکالا۔
اسی طرح، فوجی قیادت نے حکومت کا ساتھ دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی قیادت طالبان سے مذاکرات کی حامی رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو سہولت بھی دی گئی۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
head lines
رانا ثناء اللہ: اٹھارویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود

🔹 گل پلازہ سانحے پر تحقیقات کا مطالبہ
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور وہ کب تعمیر کی گئیں۔
ان کے مطابق اس پورے معاملے کا شفاف احتساب ہونا ضروری ہے۔
🔹 ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ضلعی حکومتوں کو اختیارات نہیں ملیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
لہٰذا، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
🔹 خواجہ آصف کے بیان پر وضاحت
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان ذاتی رائے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی رکن کو اظہارِ رائے سے روکنا مناسب نہیں۔
ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
🔹 اٹھارویں ترمیم پر مکالمے کی ضرورت
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے بنی تھی۔
لیکن اگر بہتری کے لیے مکالمہ ہو تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی معاملات پر گفت و شنید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






