head lines
وفاق نے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرلیا

وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ مجوزہ نکات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ترمیم میں اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ سب سے بڑی تجویز آئینی عدالت کے قیام کی ہے۔ اس کے ساتھ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی بھی تجویز کی گئی ہے۔
ترمیم کے تحت آرٹیکل 200 میں بڑی تبدیلی کی تیاری جاری ہے۔ ہائی کورٹ ججوں کے تبادلے میں رضامندی کی شرط ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے انتظامی مسائل کم ہوں گے۔ مجوزہ ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصے کے تحفظ کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔

مزید یہ کہ آرٹیکل 243 میں ترمیم پر بھی غور جاری ہے۔ تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات واپس مرکز کے پاس لانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ انتخابی کمیشن کی تقرری میں ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے بھی نیا طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا وفد ملاقات کے لیے آیا۔ وفد نے ترمیم کی منظوری کے لیے پیپلز پارٹی سے حمایت مانگی۔ بلاول بھٹو کے مطابق ترمیم کے تمام نکات پارٹی کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے مشاورت کا طریقہ طے کر لیا ہے۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6 نومبر کو ہوگا۔ اجلاس صدر آصف علی زرداری کی دوحہ سے واپسی کے بعد بلایا جائے گا۔ حتمی فیصلہ وہیں ہوگا۔ پارٹی نے کہا کہ قومی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
head lines
رانا ثناء اللہ: اٹھارویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود

🔹 گل پلازہ سانحے پر تحقیقات کا مطالبہ
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور وہ کب تعمیر کی گئیں۔
ان کے مطابق اس پورے معاملے کا شفاف احتساب ہونا ضروری ہے۔
🔹 ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ضلعی حکومتوں کو اختیارات نہیں ملیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
لہٰذا، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
🔹 خواجہ آصف کے بیان پر وضاحت
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان ذاتی رائے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی رکن کو اظہارِ رائے سے روکنا مناسب نہیں۔
ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
🔹 اٹھارویں ترمیم پر مکالمے کی ضرورت
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے بنی تھی۔
لیکن اگر بہتری کے لیے مکالمہ ہو تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی معاملات پر گفت و شنید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






