head lines
بلوچستان بلدیاتی انتخابات: کوئٹہ میں پولنگ کا اعلان

بلوچستان میں بلدیاتی نظام کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا۔ شیڈول کے مطابق پولنگ 28 دسمبر کو ہوگی۔ اس عمل کا آغاز کاغذات نامزدگی سے ہوگا، جو 13 سے 17 نومبر تک جمع کرائے جا سکیں گے۔
انتخابات کا مرحلہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھا۔ شہری انتظام اور ترقیاتی امور کے لیے منتخب نمائندوں کی عدم موجودگی سے شدید مسائل جنم لے رہے تھے۔ کوئٹہ کے شہری کئی بار احتجاج بھی کر چکے تھے۔ اب پولنگ شیڈول کے اعلان کے بعد ایک نئے سیاسی مرحلے کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
✅ کاغذات نامزدگی کا مرحلہ
بلوچستان بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں کو مخصوص فارم پر کاغذات جمع کرانے ہوں گے۔ تمام دستاویزات جمع کرنے کے بعد ان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ مسترد یا منظور شدہ امیدواروں کی فہرست بھی مقررہ تاریخ پر جاری ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، پولنگ اسٹیشنوں کی فہرست اور انتخابی عملہ جلد جاری کیا جائے گا۔ شفاف انتخابات کے لیے سخت مانیٹرنگ کی تیاری کی جا رہی ہے۔
✅ سیکیورٹی اور انتظامی تیاری
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات بڑھائے جائیں گے۔ صوبائی حکومت نے پولیس اور لیویز کو پلان فراہم کر دیا ہے۔ ماضی میں انتخابات کے دوران امن و امان خدشات کے باعث مشکلات پیش آتی تھیں، اس بار سیکیورٹی ادارے الرٹ رہیں گے۔
✅ عوام کی توقعات
کوئٹہ کے رہائشیوں نے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی نمائندوں کے بغیر مسائل حل نہیں ہوتے۔ شہریوں نے امید ظاہر کی کہ نئے منتخب نمائندے صفائی، پینے کے پانی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کریں گے۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
head lines
رانا ثناء اللہ: اٹھارویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود

🔹 گل پلازہ سانحے پر تحقیقات کا مطالبہ
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور وہ کب تعمیر کی گئیں۔
ان کے مطابق اس پورے معاملے کا شفاف احتساب ہونا ضروری ہے۔
🔹 ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ضلعی حکومتوں کو اختیارات نہیں ملیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
لہٰذا، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
🔹 خواجہ آصف کے بیان پر وضاحت
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان ذاتی رائے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی رکن کو اظہارِ رائے سے روکنا مناسب نہیں۔
ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
🔹 اٹھارویں ترمیم پر مکالمے کی ضرورت
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے بنی تھی۔
لیکن اگر بہتری کے لیے مکالمہ ہو تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی معاملات پر گفت و شنید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






