news
ایف بی آر: ٹیکس گوشواروں میں 18 فیصد اضافہ

ایف بی آر نے ٹیکس نظام سے متعلق اہم اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ رواں سال ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال 49 لاکھ کے مقابلے میں 59 لاکھ افراد نے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کروائے۔ یہ اضافہ 18 فیصد بنتا ہے، جو ملکی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں بہتری
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ادارے کی اصلاحات کے اثرات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں 1.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق عوام میں احساس بڑھ رہا ہے کہ ٹیکس دینا ضروری ہے۔
انکم ٹیکس گیپ اب بھی بڑا چیلنج
انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا ہے، لیکن انکم ٹیکس گیپ اب بھی بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں مجموعی طور پر 1.7 ٹریلین روپے کا ٹیکس گیپ موجود ہے۔ حیران کن طور پر 1.2 ٹریلین روپے صرف ٹاپ ون آمدن والوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ باقی 200 ارب روپے عام ٹیکس دہندگان کے کھاتے میں شامل ہیں۔
عوامی بیداری اور ڈیجیٹل نظام
چیئرمین کا کہنا تھا کہ نوجوان طبقہ تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکس سسٹم کی طرف آ رہا ہے۔ آن لائن ٹیکس فائلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نیا ڈیجیٹل پورٹل متعارف کروا چکا ہے جس سے ٹیکس دہندگان کو سہولت ملی ہے۔
مستقبل میں مزید اقدامات
راشد محمود کے مطابق ایف بی آر ٹیکس کلچر کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اصلاحات کرے گا۔ ادارے کا ہدف ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد ٹیکس نیٹ میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا پیسہ عوامی فلاح پر خرچ ہوتا ہے، اس لیے لوگوں کو ذمہ داری کے ساتھ نظام کا حصہ بننا چاہیے۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






