news
سیمنٹ کی قیمتیں کم ہو گئیں، مختلف شہروں میں نئے ریٹس

پاکستان میں سیمنٹ کی قیمتیں پچھلے ہفتے معمولی کمی کے ساتھ ریکارڈ کی گئیں۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں شمالی شہروں میں فی بوری اوسط قیمت 1364 روپے رہی۔ اس سے پچھلے ہفتے اسی علاقے میں سیمنٹ کی قیمتیں 1369 روپے تھیں۔ یوں ایک ہفتے کے دوران 5 روپے کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ یہ کمی زیادہ نہیں، مگر مارکیٹ میں گراوٹ کا واضح اشارہ ہے۔
اس کے برعکس جنوبی شہروں میں سیمنٹ کی قیمتیں بدستور 1441 روپے فی بوری ریکارڈ کی گئیں۔ یعنی وہاں مارکیٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسلام آباد میں سیمنٹ 1345 روپے، راولپنڈی میں 1346، لاہور میں 1406، گوجرانوالہ میں 1400، سیالکوٹ میں 1350 اور فیصل آباد میں 1380 روپے فی بوری فروخت ہوئی۔ پشاور میں اوسط قیمت 1334 جبکہ بنوں میں سب سے کم، یعنی 1300 روپے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب جنوبی مارکیٹ میں بھی مختلف شہر نمایاں رہے۔ کراچی میں اوسط قیمت 1369، حیدرآباد میں 1427، سکھر میں 1500، لاڑکانہ میں 1407 اور خضدار میں 1443 روپے فی بوری ریکارڈ ہوئی۔ کوئٹہ میں بھی قیمت 1500 روپے رہی، جو ملک بھر میں بلند سطح ہے۔
تعمیراتی شعبے کے ماہرین کے مطابق طلب میں کمی کی وجہ سے سیمنٹ کی قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اگلے چند ہفتوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ ملک بھر میں تعمیراتی سرگرمیوں کے سست ہونے سے ڈیمانڈ کم ہو رہی ہے۔ سیمنٹ انڈسٹری نے پہلے ہی پیداوار میں کمی کی تھی۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






