Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگا دی

head lines

وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگا دی

Published

on

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
حکومت کے مطابق ٹی ایل پی کی سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے تنظیم کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔


⚖️ کابینہ کی منظوری اور قانونی پہلو

وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک لبیک پر پابندی کی منظوری دی۔
ذرائع کے مطابق تنظیم کی جانب سے پُرتشدد احتجاج، سڑکوں کی بندش اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

اس سے قبل 2016 میں قائم ہونے والی تنظیم کو مختلف اوقات میں وارننگ نوٹسز بھی دیے گئے تھے، تاہم پرتشدد رویہ برقرار رہنے پر پابندی ناگزیر سمجھی گئی۔


🚔 تحریک لبیک کے خلاف کارروائیاں

حکومت نے تنظیم کے مالی ذرائع، دفاتر اور سرگرمیوں کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات مشترکہ طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے حکمتِ عملی بنا رہی ہیں۔

📚 تحریک لبیک پر پابندی — پس منظر

تحریک لبیک 2016 میں خادم حسین رضوی کی قیادت میں بنی تھی۔
اس نے مذہبی ایشوز پر احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔
ماضی میں بھی اس کے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں اور املاک کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Trending

Exit mobile version