Connect with us

head lines

ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ، سیلابی صورتحال میں شدت

Published

on

موسلا دھار بارش

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ چنیوٹ میں دو گھنٹے سے زائد بارش ہوئی، جس سے سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھ گئیں۔ ادھر شیخوپورہ اور گردونواح میں تیز بارش نے نشیبی علاقے ڈبو دیے۔ جہلم میں بھی ندی نالے بپھر گئے اور کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں۔

اسی دوران ریسکیو ٹیموں کو امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سیلاب آیا۔ مزید برآں قریبی دیہات کو خالی کرانے کے اعلانات بھی کیے گئے۔ بھارت نے دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا، جس سے خوشاب اور جھنگ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب پشاور میں موسلا دھار بارش سے صدر، جی ٹی روڈ اور گورنر ہاؤس کے اطراف پانی کھڑا ہوگیا۔ باغ آزاد کشمیر میں نالہ ماہل میں طغیانی آئی اور بستی خالی کروالی گئی۔ تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق مزید بارش کا امکان ہے۔ آج اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔ شام یا رات میں سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بھی بارش متوقع ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

head lines

مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

Published

on

مری میں برفباری

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔

Continue Reading

head lines

رانا ثناء اللہ: اٹھارویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود

Published

on

رانا ثناء اللہ

🔹 گل پلازہ سانحے پر تحقیقات کا مطالبہ

گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور وہ کب تعمیر کی گئیں۔
ان کے مطابق اس پورے معاملے کا شفاف احتساب ہونا ضروری ہے۔


🔹 ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ضلعی حکومتوں کو اختیارات نہیں ملیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
لہٰذا، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔


🔹 خواجہ آصف کے بیان پر وضاحت

وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان ذاتی رائے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی رکن کو اظہارِ رائے سے روکنا مناسب نہیں۔
ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔


🔹 اٹھارویں ترمیم پر مکالمے کی ضرورت

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے بنی تھی۔
لیکن اگر بہتری کے لیے مکالمہ ہو تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی معاملات پر گفت و شنید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~