Connect with us

انٹرٹینمنٹ

ڈکی بھائی اغوا کیس، ملزمان کے خلاف درخواست دائر

Published

on

ڈکی بھائی

لاہور: ڈکی بھائی اغوا کیس میں عدالت میں دائر درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اغوا کا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا۔


🔹 اغوا کا الزام اور ملزمان کے نام

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان میں حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ شامل ہیں۔
درخواست کے مطابق انہوں نے رجب بٹ کی گاڑی میں گھات لگا کر منیب کو اغوا کیا۔
منیب، معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا بھائی بتایا گیا ہے۔


🔹 ویڈیو ریکارڈنگ کا دعویٰ

درخواست کے مطابق رجب بٹ اور مان ڈوگر نے منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈالا۔
بعد ازاں اسے گاڑی میں قید کر دیا گیا۔
اسی دوران حیدر علی نے پورے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی۔


🔹 پنجرے میں بند کرنے کا الزام

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منیب کو مرغیوں کے ایک پنجرے میں بند کیا گیا۔
بعد میں اغوا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔
یوں واقعے نے عوامی سطح پر تشویش پیدا کی۔


🔹 بازیابی اور سوشل میڈیا ردعمل

درخواست گزار کے مطابق ڈکی بھائی نے قانونی کارروائی کے بجائے خود جا کر بھائی کو بازیاب کروایا۔
اس تمام عمل کی ویڈیو بھی بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔
چنانچہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا۔


🔹 سماجی اثرات پر تشویش

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی وائرل ویڈیوز لاقانونیت کو فروغ دیتی ہیں۔
مزید یہ کہ تشدد اور انتہا پسندی کو عام کیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


🔹 قانونی مؤقف

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملزمان کے اقدامات عوامی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔
اس کے ساتھ ہی یہ امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ عمل ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آخر میں کہا گیا کہ ڈکی بھائی اغوا کیس میں ملوث افراد قابلِ سزا جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انٹرٹینمنٹ

جویریہ سعود کا بولڈ لباس فیشن شو میں تنقید کی زد میں

Published

on

جویریہ سعود

جویریہ سعود کا بولڈ لباس برطانیہ فیشن شو میں سوشل میڈیا پر موضوع بحث

پاکستانی اداکارہ جویریہ سعود کا بولڈ لباس برطانیہ میں منعقدہ فیشن شو کے دوران سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس موقع پر اداکارہ نے اپنے ملبوسات کے کلیکشن کی نمائش کی اور ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں، جبکہ ان کی بیٹی جنت اور فلم اسٹار ثناء نواز بھی موجود تھیں۔


جویریہ سعود کے لباس پر ردعمل

فیشن شو میں جویریہ سعود نے سلور ہاف بلاؤز، لانگ جیکٹ اور سیاہ ساڑھی زیب تن کی، جس پر کچھ صارفین نے تنقید کی۔ کچھ نے کہا کہ اداکارہ عام طور پر مذہبی اور روایتی پروگرامز میں محتاط لباس پہنتی ہیں، اس لیے یہ ان کے مداحوں کے لیے حیران کن تھا۔

دوسری جانب، بہت سے افراد نے اس لباس کو فن اور تخلیقی آزادی کے تناظر میں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جویریہ سعود کا بولڈ لباس فیشن شو کی ضروریات کے مطابق تھا اور اسے ذاتی پسند کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔


فیشن شوز میں لباس کی آزادی

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی پاکستانی شوبز شخصیت کے لباس پر بحث ہوئی۔ اس سے قبل بھی متعدد اداکارائیں اور ماڈلز فیشن شوز میں پہنے گئے ملبوسات کے باعث سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنتی رہی ہیں۔

اس بار بھی، جویریہ سعود کا بولڈ لباس نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ شوبز شخصیات کی نجی پسند اور عوامی توقعات کے درمیان توازن کہاں ہونا چاہیے۔

Continue Reading

music

ترنم ناز نے زندگی کا سب سے بڑا دکھ شیئر کیا

Published

on

نہایت معروف اور سینیئر کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دکھ مداحوں کے ساتھ شیئر کیا۔

ترنم ناز حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن شو میں نظر آئیں اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین خریدی اور دل سے اپنا گھر بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان کے بچے اس وقت چھوٹے تھے، اس لیے انہوں نے یہ گھر بچوں کے نام کر دیا۔ ترنم ناز نے دکھ بھری آواز میں کہا، “چاہے گھر میرے نام ہو یا بچوں کے، ایک ہی بات ہے۔”

تاہم، جب بچے بڑے ہوئے اور ان کی شادیاں ہوئیں، تو وہ گھر میں حصہ مانگنے لگے۔ ترنم ناز نے کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ گلوکارہ نے کہا کہ اس کا رنج تاحیات رہے گا۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں، لیکن اگر گھر ان کے نام ہوتا تو صورت حال مختلف اور بہتر ہوتی۔

ترنم ناز کو ان کی پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں کی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔

ان کی کلاسیکل موسیقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترنم ناز کی کہانی والدین اور بچوں کے تعلقات میں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہے، خاص طور پر جب بات جائداد اور وراثت کی ہو۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~