Connect with us

انٹرٹینمنٹ

ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل: بچوں کی تربیت اور الزامات

Published

on

ڈیوڈ بیکہم بروکلن

🔴 ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل: والد نے وضاحت کر دی

ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل میں اپنے بیٹے کے حالیہ بیان پر پہلی بار موقف واضح کیا۔
بروکلن نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا تھا کہ والدین نے اس کی زندگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور والدہ نکولا پیلٹز کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا۔
ڈیوڈ بیکہم نے کہا کہ بچوں کو اپنی غلطیاں کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، کیونکہ انہی سے وہ سیکھتے ہیں۔


🔹 والد کی تربیتی سوچ اور ردعمل

ڈیوڈ بیکہم نے برطانوی ویب سائٹ کو بتایا:

“بچے غلطیاں کرتے ہیں، اسی طرح وہ سیکھتے ہیں۔ میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ انہیں سیکھنے کا موقع ملے، کبھی کبھار غلطیاں کرنے دینا ضروری ہوتا ہے۔”

یہ موقف ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل میں والد کی تربیتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی واضح کرتا ہے کہ والدین کا کام صرف رہنمائی کرنا ہے، اور بچوں کو اپنی زندگی کے تجربات کرنے دینا چاہیے۔


🔹 بروکلن کے الزامات اور خاندان میں تنازع

26 سالہ بروکلن نے الزام لگایا کہ ان کی والدہ نے اپریل 2022 میں شادی سے قبل اچانک نکولا کے لیے ویڈنگ گاؤن تیار کرنے سے دستبرداری اختیار کر لی۔
یہ بیان خاندان میں پیدا ہونے والے اختلافات کی تازہ مثال ہے اور میڈیا میں دھماکا خیز ردعمل پیدا کر رہا ہے۔

مزید براں، سوشل میڈیا پر یہ واقعہ وائرل ہوا جس سے عوام میں شدید بحث چھڑ گئی۔
اس سلسلے میں برطانوی میڈیا رپورٹس اور TMZ نے بھی خبر شائع کی ہے (TMZ


🔹 والدین اور بچوں کے تعلقات پر اثر

ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل یہ بھی واضح کرتا ہے کہ والدین کبھی کبھار بچوں کو خود سیکھنے دینا چاہتے ہیں۔
یہ والدین کی ذمہ داری اور بچوں کی آزادی کے درمیان توازن پر روشنی ڈالتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: مشہور شخصیات کے خاندانی تنازعات


🔹 سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

بروکلن کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔
بہت سے صارفین نے والد کے صبر اور سمجھداری کو سراہا، جبکہ بعض نے بروکلن کے موقف کی حمایت کی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

انٹرٹینمنٹ

جویریہ سعود کا بولڈ لباس فیشن شو میں تنقید کی زد میں

Published

on

جویریہ سعود

جویریہ سعود کا بولڈ لباس برطانیہ فیشن شو میں سوشل میڈیا پر موضوع بحث

پاکستانی اداکارہ جویریہ سعود کا بولڈ لباس برطانیہ میں منعقدہ فیشن شو کے دوران سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس موقع پر اداکارہ نے اپنے ملبوسات کے کلیکشن کی نمائش کی اور ریمپ پر جلوہ گر ہوئیں، جبکہ ان کی بیٹی جنت اور فلم اسٹار ثناء نواز بھی موجود تھیں۔


جویریہ سعود کے لباس پر ردعمل

فیشن شو میں جویریہ سعود نے سلور ہاف بلاؤز، لانگ جیکٹ اور سیاہ ساڑھی زیب تن کی، جس پر کچھ صارفین نے تنقید کی۔ کچھ نے کہا کہ اداکارہ عام طور پر مذہبی اور روایتی پروگرامز میں محتاط لباس پہنتی ہیں، اس لیے یہ ان کے مداحوں کے لیے حیران کن تھا۔

دوسری جانب، بہت سے افراد نے اس لباس کو فن اور تخلیقی آزادی کے تناظر میں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جویریہ سعود کا بولڈ لباس فیشن شو کی ضروریات کے مطابق تھا اور اسے ذاتی پسند کا معاملہ سمجھنا چاہیے۔


فیشن شوز میں لباس کی آزادی

یہ پہلا موقع نہیں جب کسی پاکستانی شوبز شخصیت کے لباس پر بحث ہوئی۔ اس سے قبل بھی متعدد اداکارائیں اور ماڈلز فیشن شوز میں پہنے گئے ملبوسات کے باعث سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنتی رہی ہیں۔

اس بار بھی، جویریہ سعود کا بولڈ لباس نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ شوبز شخصیات کی نجی پسند اور عوامی توقعات کے درمیان توازن کہاں ہونا چاہیے۔

Continue Reading

music

ترنم ناز نے زندگی کا سب سے بڑا دکھ شیئر کیا

Published

on

نہایت معروف اور سینیئر کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دکھ مداحوں کے ساتھ شیئر کیا۔

ترنم ناز حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن شو میں نظر آئیں اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین خریدی اور دل سے اپنا گھر بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان کے بچے اس وقت چھوٹے تھے، اس لیے انہوں نے یہ گھر بچوں کے نام کر دیا۔ ترنم ناز نے دکھ بھری آواز میں کہا، “چاہے گھر میرے نام ہو یا بچوں کے، ایک ہی بات ہے۔”

تاہم، جب بچے بڑے ہوئے اور ان کی شادیاں ہوئیں، تو وہ گھر میں حصہ مانگنے لگے۔ ترنم ناز نے کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ گلوکارہ نے کہا کہ اس کا رنج تاحیات رہے گا۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں، لیکن اگر گھر ان کے نام ہوتا تو صورت حال مختلف اور بہتر ہوتی۔

ترنم ناز کو ان کی پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں کی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔

ان کی کلاسیکل موسیقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترنم ناز کی کہانی والدین اور بچوں کے تعلقات میں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہے، خاص طور پر جب بات جائداد اور وراثت کی ہو۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~