head lines
ڈگری تنازعہ کیس: جسٹس جہانگیری نے عدالت میں دلائل دیے

جسٹس طارق محمود جہانگیری عدالت میں پیش
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈگری تنازعہ کیس کے دوران جسٹس طارق محمود جہانگیری خود عدالت پیش ہوئے۔
انہوں نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض کیا۔
اطلاعات کے مطابق، جب جسٹس جہانگیری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے تمام وکلاء کو اپنی نشستوں پر جانے کا کہا۔
چیف جسٹس نے کہا: ’جہانگیری صاحب آئے ہوئے ہیں، آپ سب بیٹھ جائیں۔‘
جسٹس جہانگیری نے اپنے دلائل میں کہا:
’’مجھے رات کو نوٹس ملا ہے، مجھے وقت چاہیے۔ جب آپ قائم مقام چیف جسٹس تھے تو میں نے آپ کے خلاف درخواست دی تھی۔ ضابطہ اخلاق ہے، ہم دونوں جج ہیں۔‘‘
چیف جسٹس نے جواب دیا: ’’ہمارا اس کے خلاف کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘‘
جسٹس جہانگیری نے مؤقف اپنایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہائیکورٹ جج نے ساتھی جج کو نوٹس دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی نے بھی معاملے کو نہیں سنا، اور مجھے صرف تین دن کا نوٹس دیا گیا۔
جسٹس جہانگیری نے مزید کہا:
’’میری ڈگری جعلی نہیں ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس کو معطل کیا ہوا ہے۔ میں قرآن پر حلف کے لیے تیار ہوں کہ میری ڈگری اصلی ہے۔ کیس کسی اور جج کو بھیج دیا جائے تاکہ میں مکمل ریکارڈ دیکھ کر دلائل دوں۔‘‘
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
head lines
رانا ثناء اللہ: اٹھارویں ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود

🔹 گل پلازہ سانحے پر تحقیقات کا مطالبہ
گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ گل پلازہ کی اضافی منزلوں کی منظوری کس نے دی اور وہ کب تعمیر کی گئیں۔
ان کے مطابق اس پورے معاملے کا شفاف احتساب ہونا ضروری ہے۔
🔹 ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو بااختیار بنانا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ضلعی حکومتوں کو اختیارات نہیں ملیں گے، عوامی مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔
لہٰذا، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
🔹 خواجہ آصف کے بیان پر وضاحت
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان ذاتی رائے تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی رکن کو اظہارِ رائے سے روکنا مناسب نہیں۔
ہر رکن کو اپنی بات کہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ پارٹی پالیسی بیان کر رہے ہیں۔
لہٰذا، ذاتی رائے کو ذاتی ہی سمجھا جانا چاہیے۔
🔹 اٹھارویں ترمیم پر مکالمے کی ضرورت
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اتفاق رائے سے بنی تھی۔
لیکن اگر بہتری کے لیے مکالمہ ہو تو اس پر بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی معاملات پر گفت و شنید جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






