قانون
لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں سماعت

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اویس خالد نے لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی تھی۔
اس میں نشاندہی کی گئی کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ آئین کے مطابق نہیں ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ آئین شہریوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت خطرناک اقدام ہے۔
ماضی میں پتنگ بازی سے کئی حادثات ہو چکے ہیں۔
لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی کہ فیصلے تک ڈپٹی کمشنر کو پتنگ بنانے کی اجازت دینے والا نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیا جائے۔
ساتھ ہی، درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ پتنگ بازی کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔
دوران سماعت، حکومت پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے تحریری جواب جمع کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ پتنگ بازی کے لیے ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے اور قید کی سزا مقرر ہے۔
لاہور شہر کو ریڈ، گرین، بلیو اور ییلو زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پتنگ بازی صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے گی۔
عدالت نے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر فریقین سے 27 جنوری تک جواب طلب کر لیا ہے۔
بعد ازاں عدالت اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ سماعت شہری حفاظت اور قانون کی عملداری کے توازن پر روشنی ڈالتی ہے۔
news
لاہور میں بسنت کے لیے 27 نکاتی سیکیورٹی پلان جمع

لاہور پولیس نے بسنت کے موقع پر سیکیورٹی سے متعلق 27 نکاتی جامع پلان لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ اس پلان کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
سیکیورٹی پلان کے مطابق بسنت کے دنوں میں فری رکشا سروس فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے پانچ ہزار رکشے مختص کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے ٹریفک دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید یہ کہ ریڈ زونز میں بغیر اینٹینا موٹر سائیکل داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حساس علاقوں میں سخت چیکنگ کا نظام نافذ رہے گا۔
پنجاب میں پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائی
عدالت میں جمع کرائے گئے پلان میں واضح کیا گیا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار دونوں افراد کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا۔ اس قانون پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے گا۔
پتنگ اڑانے کے لیے صرف منظور شدہ کاٹن کا دھاگا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ کیمیکل اور دھاتی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی ڈور بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئیک رسپانس ٹیمیں بھی تعینات رہیں گی۔ یہ ٹیمیں کسی بھی ناخوشگوار واقعے پر فوری کارروائی کریں گی۔
قانون
جسٹس طارق جہانگیری نے ڈگری کیس میں حکم چیلنج کر دیا

جسٹس طارق جہانگیری نے ڈگری کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا
جسٹس طارق جہانگیری نے مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکمنامہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 9 دسمبر کے دو رکنی بینچ کے خلاف آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔
درخواست میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی رٹ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔
جسٹس طارق جہانگیری نے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف ہائی کورٹ میں دائر رٹ کو خارج کیا جائے۔
بینچ پر اعتراضات مسترد
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈگری تنازع کیس میں جسٹس طارق جہانگیری کی جانب سے بینچ پر اٹھائے گئے دونوں اعتراضات مسترد کر دیے گئے تھے۔
عدالت نے رجسٹرار کراچی یونیورسٹی کو ایل ایل بی ڈگری کا اصل ریکارڈ 18 دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
ہائی کورٹ کا تحریری حکمنامہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈگری تنازع کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا۔
حکمنامے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پر تعصب کے الزام کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
عدالت کے مطابق ہائی کورٹ کے ایک جج کی ڈگری سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر انتظامی اختیارات کے تحت دو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔
تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ بینچز کی تشکیل چیف جسٹس ہائی کورٹ کا صوابدیدی اختیار ہے۔
ایسے حساس معاملات میں ڈویژن بینچ کی تشکیل کوئی غیر معمولی یا نئی مثال نہیں۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






