Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Deprecated: Function WP_Dependencies->add_data() was called with an argument that is deprecated since version 6.9.0! IE conditional comments are ignored by all supported browsers. in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
عظمیٰ بخاری کا مؤقف: سیلاب متاثرین کی بحالی مشکل
Notice: Function WP_Styles::add was called incorrectly. The style with the handle "ql-main" was enqueued with dependencies that are not registered: ql-bootstrap. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.9.1.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
Connect with us

news

عظمیٰ بخاری کا مؤقف: سیلاب متاثرین کی بحالی مشکل

Published

on

عظمیٰ بخاری

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی ایک بہت بڑا ٹاسک ہے اور یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اب تک سیلاب سے متاثرہ افراد سے کسی سے کوئی امداد نہیں لی اور نہ ہی امداد لینے کا کوئی ارادہ ہے، بلکہ یہ کام اپنے وسائل سے کر رہی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ حکومت نے 22 لاکھ عوام اور 17 لاکھ جانور محفوظ مقامات پر منتقل کیے ہیں۔ علاوہ ازیں 396 ریلیف کیمپ اور 490 میڈیکل کیمپ فعال ہیں تاکہ متاثرین کو طبی امداد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب روزانہ ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں رہتی ہیں، پوچھتی ہیں کہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیں، اور خود بھی فیلڈ میں جا کر حالات کا جائزہ لیتی ہیں۔

ایک مرثیہ کلام کے انداز میں انہوں نے کہا کہ اگر بیگم کلثوم نواز آج زندہ ہوتیں تو مریم نواز کی عوامی خدمت دیکھ کر بہت خوش ہوتیں، کیونکہ جنہیں “گڑیا اور پیمپرڈ بچے” کی طرح پال پوسا گیا تھا، وہ اب عوام کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔

جب پریس کانفرنس میں تنقید کا سوال اٹھایا گیا تو عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انہیں “سکور سیٹ کرنا آتا ہے اور کریں گے بھی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے حالات کو قابو میں لائیں، سیلاب زدگان کو گھروں میں بسائیں، پھر تنقید مناسب ہوگی۔ انہوں نے کلثوم نواز کے انتقال اور اس سے قبل ان کی بیماری کے دوران ہسپتال جانے اور انکی طبیعت کی تصدیق جیسے معاملات بھی بیان کیے، اور نواز شریف اور عمران خان کے بیانات کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے یوٹیوبرز دعویٰ کرتے ہیں کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، لیکن “باجی” (وہ خود) کہتی ہیں کہ جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ “لوگوں پر سزاۓ موت کے کیس” بناتے تھے، انہیں نظام کو خطرہ محسوس نہیں تھا مگر جب کچھ کرپشن کے الزامات سامنے آئے تو پھر نظام کو خطرہ ہو گیا۔ انہوں یہ بھی کہا کہ حکومت کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ اصلاح ہو سکے۔

مزید برآں، گورنر پنجاب کے ایک خط پر ردعمل میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کام شروع کئے ہیں اور “تمام معاملات حکومت کے کنٹرول میں ہیں”۔ انہوں نے وضاحت کی کہ متاثرین کی خدمت میں متعلقہ ادارے سرگرم ہیں، اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے سیلابی صورتحال کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے خود چکوال سمیت متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news

پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

Published

on

پٹرولیم لیوی پٹرولیم مصنوعات

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔

Continue Reading

head lines

پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

Published

on

پاکستان قازقستان تعاون

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

تجارت اور ریلوے میں اشتراک

سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون

اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔

قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ

دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~