news
سندھ میں 12 لاکھ کیوسک سیلابی ریلہ برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے

کراچی: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے مکمل تیاری ہے، اور صوبہ 12 لاکھ کیوسک تک کا سیلابی ریلا برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے حفاظتی بند نہ صرف مضبوط بلکہ اونچے بھی ہیں، اور سکھر سے کوٹری تک دریائے سندھ کا پھیلاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے سیلابی اثرات کم محسوس ہوتے ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ اگرچہ پنجاب کی نسبت سندھ میں سیلاب کی شدت کم ہوگی، تاہم کچے کے علاقے میں سات لاکھ کیوسک کا ریلا آنے سے وہاں کا بیشتر حصہ زیرِ آب آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں اتنا پانی ضرور آئے گا جو کچے کے علاقے کو متاثر کرے گا، لیکن امید ہے کہ دریاؤں میں سیلابی ریلوں کی شدت میں کمی سے مجموعی صورتحال قابو میں رہے گی۔
اس حوالے سے سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن نصیرآباد، غلام سرور بنگلزئی نے بتایا کہ اس وقت دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر تین لاکھ 70 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج سے تین لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، جب کہ آئندہ دنوں میں گڈو پر 6 سے 7 لاکھ کیوسک تک کا ریلا بھی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر زمینی سطح پر اقدامات جاری ہیں۔ صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی، سیکریٹری ایریگیشن صالح محمد ناصر، اور چیف انجینئر کینالز ناصر مجید بھی نصیرآباد اور سکھر بیراج کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ صورتحال کا خود جائزہ لے سکیں۔
محکمہ ایریگیشن کے عملے کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے مستعد رہیں۔
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






