Connect with us

news

لیاری عمارت حادثہ: سندھ حکومت کا بڑا ایکشن، ڈی جی ایس بی سی اے معطل

Published

on

لیاری عمارت حادثہ

لیاری عمارت حادثہ کراچی کے علاقے لیاری میں حالیہ دنوں پیش آنے والے افسوسناک عمارت گرنے کے واقعے پر سندھ حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سانحے کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کو معطل کر دیا گیا ہے، جب کہ دیگر ذمہ دار افسران کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

لیاری عمارت حادثہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیاء لنجار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے نہ صرف ایس بی سی اے کے موجودہ ڈی جی کو معطل کر دیا ہے بلکہ وزیر داخلہ کو واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے اور تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت بھی کی ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ان افسران کو معطل کر دیا گیا ہے جو سانحے کے وقت لیاری کے متاثرہ علاقے میں تعینات تھے، تاہم 2022 میں عمارت کو مخدوش قرار دینے کے وقت جو افسران ذمہ دار تھے، ان کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔

سعید غنی نے اس موقع پر بتایا کہ اس سانحے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی کمشنر کراچی کر رہے ہیں، اور اس کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی نہ صرف اس عمارت کے معاملے کی چھان بین کرے گی بلکہ کراچی میں موجود 588 خطرناک عمارتوں کی تفصیلات بھی مرتب کرے گی، جن میں سے 51 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

صوبائی وزراء نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی پلاٹ یا فلیٹ کی خریداری سے قبل یہ ضرور چیک کریں کہ متعلقہ منصوبے کو قانونی طور پر منظوری حاصل ہے یا نہیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ اگر ایس بی سی اے کے کسی بھی موجودہ یا سابقہ افسر کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ اس افسوسناک سانحے کے ذمہ داروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

قانون

لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں سماعت

Published

on

لاہور ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اویس خالد نے لاہور ہائی کورٹ پتنگ بازی کیس میں جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی تھی۔
اس میں نشاندہی کی گئی کہ پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ آئین کے مطابق نہیں ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ آئین شہریوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے پتنگ بازی کی اجازت خطرناک اقدام ہے۔
ماضی میں پتنگ بازی سے کئی حادثات ہو چکے ہیں۔
لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی کہ فیصلے تک ڈپٹی کمشنر کو پتنگ بنانے کی اجازت دینے والا نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیا جائے۔

ساتھ ہی، درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ پتنگ بازی کے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔

دوران سماعت، حکومت پنجاب اور سی سی پی او لاہور نے تحریری جواب جمع کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ پتنگ بازی کے لیے ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے بھاری جرمانے اور قید کی سزا مقرر ہے۔
لاہور شہر کو ریڈ، گرین، بلیو اور ییلو زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پتنگ بازی صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے گی۔

عدالت نے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر فریقین سے 27 جنوری تک جواب طلب کر لیا ہے۔
بعد ازاں عدالت اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ سماعت شہری حفاظت اور قانون کی عملداری کے توازن پر روشنی ڈالتی ہے۔

Continue Reading

news

ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری و توسیع کی منظوری

Published

on

آصف علی زرداری

ہائی کورٹ ججز تقرری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات پر اعلیٰ عدلیہ میں نئی تقرریوں اور توسیعات کی منظوری دے دی۔

یہ فیصلے وزیراعظم کے مشورے سے کیے گئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ساتھ ہی زیرِ التوا مقدمات کے جلد فیصلے کو یقینی بنانا بھی ترجیح ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔
ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ اور جسٹس ریاضت علی سحر شامل ہیں۔
اسی طرح جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی اور جسٹس جان علی جونیجو بھی مستقل ہوئے۔
جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو بھی مستقل حیثیت مل گئی۔

مزید برآں، سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈیشنل ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔
ان میں جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں ہائی کورٹ ججز تقرری کے تحت 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنا دیا گیا۔
ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~