news
نان رجسٹرڈ افراد کیلئے سخت اقدامات، بجلی و گیس کنکشن منقطع

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نان رجسٹرڈ افراد کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن کے تحت سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن نہ کرانے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس بند کر دیے جائیں گے اور بجلی و گیس کے کنکشن بھی منقطع کیے جائیں گے۔ اجلاس کی صدارت سید نوید قمر نے کی جبکہ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے تمام افراد کو پہلے نوٹس دیا جائے گا، اور اگر وہ رجسٹریشن نہ کرائے تو ان کے اکاؤنٹس بند کر دیے جائیں گے، تاہم رجسٹریشن کے بعد اکاؤنٹس دو دن میں بحال کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بہت سے کاروباری افراد انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں لیکن سیلز ٹیکس میں نہیں، خاص طور پر کراچی میں متعدد فیکٹریاں سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ اجلاس میں “ٹیئر ون” نان رجسٹرڈ ریٹیلرز کے لیے بجلی اور گیس کے کنکشن کاٹنے کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی ممبران نے ایف بی آر کی تجویز 14 اے سی کی حمایت کی، تاہم بعض ارکان جیسے شرمیلا فاروقی نے سزاؤں کے بجائے مراعات دینے پر زور دیا تاکہ لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں آئیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ اب ٹیکس چھوٹ یا ایمنسٹی اسکیمیں نہیں دی جائیں گی، اور تمام شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا عمل جاری ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے مرحلہ وار اکاؤنٹس بند کر کے بحال کرنے کی تجویز پیش کی جسے کمیٹی نے مناسب قرار دے کر اس پر مزید کام کرنے کی ہدایت کی
head lines
مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
news
کراچی سیف سٹی پراجیکٹ دو ماہ میں فعال کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کے جدید انتظامات ناگزیر ہیں۔ مزید یہ کہ سیف سٹی منصوبے سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی ای چالان سسٹم متعارف کرا چکی ہے، اب اگلے مرحلے میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد بہتر ہوگا بلکہ اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کراچی کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے کو مکمل کریں۔
حکام کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت شہر کے حساس علاقوں میں کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ مرکزی کنٹرول روم سے شہر بھر کی نگرانی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






