news
ایل او سی پر بھارتی فائرنگ کا پاک فوج کا مؤثر جواب، دشمن کی بندوقیں خاموش

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے، تاہم پاک فوج نے دشمن کو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی بندوقوں کو خاموش کرا دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے اتوار اور پیر کی درمیانی رات نکیال، کھوئی رٹہ، شاردا، کیل، نیلم اور حاجی پیر سیکٹرز میں پاکستانی پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔
ذرائع کے مطابق بھارت کی اس اشتعال انگیزی کا مقصد سرحدی کشیدگی کو ہوا دینا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا، تاہم پاک فوج نے دشمن کی اس حرکت کا فوری اور مؤثر جواب دیتے ہوئے بھارتی فوج کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات ہیں کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی سے دشمن کے متعدد مورچے تباہ ہوئے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں چکپترا پوسٹ کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی فائرنگ میں چھوٹے ہتھیار استعمال کیے گئے، لیکن پاک فوج کی جانب سے کیے گئے بھرپور ردعمل کے باعث بھارتی توپیں خاموش ہوگئیں۔ اس کے بعد دشمن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے سرحدی علاقوں کو خالی کرایا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کو پاک فوج کے جواب سے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے سرحدی اشتعال انگیزی کر رہا ہے، تاہم دشمن کسی بھول میں نہ رہے، پاک فوج ملکی خودمختاری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے اور دشمن کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی 29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب بھارتی فوج نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی تھی، جس پر پاک فوج نے دشمن کو سبق سکھاتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا تھا۔ اس تمام تر صورتحال میں افواجِ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
news
قائمہ کمیٹی ہاؤسنگ اجلاس میں وزیر و سیکریٹری کی غیر حاضری

قائمہ کمیٹی ہاؤسنگ اجلاس: وزیر و سیکریٹری کی غیر حاضری پر اراکین برہم
اسلام آباد: مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی ہاؤسنگ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری بل پر غور ہونا تھا۔ تاہم، وزیر اور سیکریٹری ہاؤسنگ کی غیر موجودگی پر اراکین شدید برہم ہوئے۔
اجلاس میں اراکین نے کہا کہ بل بہت اہم ہے، لیکن متعلقہ حکام اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ گزشتہ دو اجلاسوں سے وزیر اور سیکریٹری کی مسلسل غیر حاضری تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا، “جب تک سیکریٹری موجود نہیں ہوں گے، بل پر بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔”
بل میں بیمہ کا مسئلہ اور اراکین کی تشویش
مزید برآں، چیئرمین کمیٹی نے بل میں بیمہ کے ذکر پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شق سے متفق نہیں ہیں اور پوچھا کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔ اراکین نے تجویز دی کہ اس مسئلے پر سخت احتجاج کیا جائے اور اگلی میٹنگ میں وزیر اور سیکریٹری کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس ملتوی، اگلی میٹنگ میں شرکت لازمی
چیئرمین کمیٹی نے زور دیا کہ اگلے اجلاس میں دونوں حکام کا آنا ضروری ہے۔ ابرار احمد نے کہا کہ جب کوئی ذمہ دار افسر موجود ہوگا، تو امور کو آگے بڑھانا آسان ہوگا۔ نتیجتاً، وزیر اور سیکریٹری کی غیر موجودگی کی وجہ سے اجلاس بل پر غور کیے بغیر ملتوی کر دیا گیا۔
head lines
سپریم کورٹ کا کرایہ داری پر حتمی فیصلہ، نیا اصول طے

سپریم کورٹ کا کرایہ داری سے متعلق واضح فیصلہ
سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ ملک بھر میں کرایہ داری قوانین کو واضح کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خود بخود مالک ہوں گے۔
لہٰذا نیا کرایہ نامہ بنانا ضروری نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی حکم کے خلاف اپیل پر سنایا گیا۔
دوسری جانب عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
اسی وجہ سے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا۔
قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنا لازم
عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس جاری کیا۔
بعد ازاں کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم کرایہ داروں نے قانونی وارث کو کرایہ ادا نہیں کیا۔
حالانکہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا۔
اس کے باوجود کرایہ متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
اسی نکتے پر سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ واضح ہو گیا۔
عدالت کا سخت مؤقف
عدالت نے کہا کہ نوٹس کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا درست ادائیگی نہیں۔
چنانچہ قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔
اسی بنا پر ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔
مزید یہ کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے کرایہ داروں کا مؤقف مسترد کر دیا گیا۔
نتیجتاً بے دخلی کا حکم برقرار رکھا گیا۔
مستقبل کے مقدمات کے لیے اہم نظیر
سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ آئندہ مقدمات کے لیے ایک مضبوط قانونی مثال ہے۔
اس فیصلے سے قانونی وارثوں کے حقوق محفوظ ہو گئے ہیں۔
ساتھ ہی کرایہ داری قوانین میں موجود ابہام بھی ختم ہو گیا ہے۔
آخر میں عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یوں یہ فیصلہ مالکان اور کرایہ داروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






