head lines
پاکستان افغانستان سے مذاکرات پر دوبارہ رضامند

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/10/1524169_8960061_file_updates-1000x600.jpg&description=پاکستان افغانستان سے مذاکرات پر دوبارہ رضامند', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/10/1524169_8960061_file_updates-1000x600.jpg&description=پاکستان افغانستان سے مذاکرات پر دوبارہ رضامند', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
پاکستان افغانستان مذاکرات ایک بار پھر شروع ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے میزبانوں کی درخواست پر مذاکرات جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ پاکستانی وفد واپس جانے والا تھا، مگر اب وہ استنبول میں مزید قیام کرے گا۔ اس کا مقصد مذاکراتی عمل کو ایک اور موقع دینا ہے تاکہ امن کے امکانات برقرار رہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان افغانستان مذاکرات اپنے اصل اور بنیادی مطالبے پر جاری ہوں گے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغانستان دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ اسلام آباد نے یہ شرط بھی دہرائی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
مذاکرات کے پچھلے ادوار
پاکستان افغانستان مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا۔ اس دوران دونوں ممالک نے سیز فائر پر اتفاق کیا تھا۔ بعد ازاں مذاکرات کا دوسرا اور تیسرا دور استنبول میں برقرار رکھا گیا۔ ان ادوار میں پہلے طے شدہ نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
مذاکرات کی ناکامی اور اختلاف
گزشتہ روز اطلاعاتی وزیر عطا تارڑ نے کہا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق افغان طالبان نے شواہد کے باوجود سرحد پار دہشتگردی روکنے کی ضمانت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر کا موقف ہے کہ مذاکرات کا واحد ایجنڈا افغانستان سے پاکستان پر حملے بند کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کے امن اور خوشحالی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ تاہم، پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ امن مذاکرات صرف اسی صورت آگے بڑھیں گے جب دہشتگردی کی روک تھام یقینی ہو۔
پاکستان افغانستان مذاکرات کے اگلے دور کا باقاعدہ شیڈول جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک سے امید ہے کہ بات چیت میں پیش رفت ہو اور سرحدی صورتحال بہتر ہو سکے۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
head lines
آبی ذخائر کا تحفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے پر سخت مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائر نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں پانی کے تحفظ کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ موقع دیرپا آبی پالیسیوں پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے تک محدود نہیں۔
بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہتری کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ایک موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
چنانچہ یہ دن آبی وسائل کے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
نتیجتاً یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی اثرات سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئرز، جھیلیں اور ساحلی نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






