Connect with us

head lines

پاکستان معاشی استحکام کی راہ پر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

Published

on

محمد اورنگزیب

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام، مالی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات کے ایک نئے دور سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران چین کے نشریاتی ادارے CGTN کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بہتری کو سراہا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں روپے کی قدر مستحکم رہی، مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آ چکی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی اداروں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی نے تین سال بعد پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ظاہر کی ہے جو مالیاتی نظم و ضبط کا ثبوت ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے توسیعی مالیاتی پروگرام (EFF) کے تحت دوسری جائزہ رپورٹ مکمل ہو چکی ہے، جو عالمی اداروں کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، توانائی کے شعبے میں بہتری لانے، سرکاری اداروں کی نجکاری اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر بھرپور توجہ دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔
رواں سال پانڈا بانڈ کے اجراء اور 500 ملین ڈالر کے یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
سی پیک فیز 2.0 کے تحت صنعتی تعاون، معاشی زونز اور نجی شعبے کی شمولیت پر پیش رفت جاری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ بیجنگ کے دوران 24 مشترکہ سرمایہ کاری معاہدے طے پائے۔
تفصیلات کے لیے وزارت خزانہ پاکستان کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

head lines

سانحہ گل پلازہ رپورٹ: کمشنر کراچی کی تحقیقات مکمل

Published

on

گل پلازہ

سانحہ گل پلازہ رپورٹ مکمل، وزیراعلیٰ سندھ کو پیشی متوقع

سانحہ گل پلازہ رپورٹ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
کمشنر کراچی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی جائے گی۔
یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے تیار کی ہے۔


آگ لگنے کی وجوہات اور تحقیقات کی تفصیلات

تحقیقاتی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو آپریشن اور فائر بریگیڈ کی کارروائی کی مکمل تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گراؤنڈ فلور پر موجود ایک بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی۔
خاص طور پر ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹس کے ذریعے آگ اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔


اموات اور متاثرہ فلورز کی تفصیل

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک سانحے میں 79 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
زیادہ تر اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں، جہاں دھواں تیزی سے بھر گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔


فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی ٹائم لائن

رپورٹ میں واقعے کا وقت بھی درج کیا گیا ہے۔
آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی۔
پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی 10 بج کر 30 منٹ پر گل پلازہ پہنچ چکے تھے۔
ریسکیو حکام، عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔


اہم نکات اور آئندہ اقدامات

تحقیقاتی رپورٹ میں مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔
مزید یہ کہ کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

head lines

سپریم کورٹ کا کرایہ داری پر حتمی فیصلہ، نیا اصول طے

Published

on

سپریم کورٹ Pakistan News

سپریم کورٹ کا کرایہ داری سے متعلق واضح فیصلہ

سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ ملک بھر میں کرایہ داری قوانین کو واضح کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خود بخود مالک ہوں گے۔
لہٰذا نیا کرایہ نامہ بنانا ضروری نہیں ہوگا۔

یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی حکم کے خلاف اپیل پر سنایا گیا۔
دوسری جانب عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
اسی وجہ سے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا۔

قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنا لازم

عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس جاری کیا۔
بعد ازاں کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم کرایہ داروں نے قانونی وارث کو کرایہ ادا نہیں کیا۔

حالانکہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا۔
اس کے باوجود کرایہ متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
اسی نکتے پر سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ واضح ہو گیا۔

عدالت کا سخت مؤقف

عدالت نے کہا کہ نوٹس کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا درست ادائیگی نہیں۔
چنانچہ قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔
اسی بنا پر ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔

مزید یہ کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے کرایہ داروں کا مؤقف مسترد کر دیا گیا۔
نتیجتاً بے دخلی کا حکم برقرار رکھا گیا۔

مستقبل کے مقدمات کے لیے اہم نظیر

سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ آئندہ مقدمات کے لیے ایک مضبوط قانونی مثال ہے۔
اس فیصلے سے قانونی وارثوں کے حقوق محفوظ ہو گئے ہیں۔
ساتھ ہی کرایہ داری قوانین میں موجود ابہام بھی ختم ہو گیا ہے۔

آخر میں عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یوں یہ فیصلہ مالکان اور کرایہ داروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~