news
وزیراعظم شہباز شریف کا پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

پولیو کا خاتمہ: حکومت پاکستان کی اولین ترجیح
پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
مزید یہ کہ وزیراعظم کے مطابق پاکستان جلد پولیو فری ملک بنے گا۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جاری مہم مثبت نتائج دے رہی ہے۔
عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری
اسی دوران وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک عالمی شراکت داروں کا تعاون جاری رکھا جائے گا۔
خصوصاً بل گیٹس فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہا گیا۔
یہ بات انہوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی کرس ایلیاس سے ملاقات میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ بل گیٹس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مزید برآں وزیراعظم نے سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
انسداد پولیو مہم: کامیابیاں اور درپیش چیلنجز
اگرچہ انسداد پولیو مہم میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں،
تاہم وزیراعظم کے مطابق مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
اسی لیے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
تاکہ پولیو ٹیموں کی رسائی ہر علاقے تک ممکن بنائی جا سکے۔
وفاقی وزارتِ صحت کو واضح ہدایات
اس کے علاوہ وزیراعظم نے وفاقی وزارتِ صحت کو اہم ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جائے۔
ساتھ ہی ویکسین کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ادارے مل کر سفارشات مرتب کریں۔
پولیو کا خاتمہ: قومی اور عالمی ذمہ داری
ماہرین کے مطابق پولیو کا خاتمہ قومی صحت کا اہم معاملہ ہے۔
اسی طرح یہ عالمی سطح پر پاکستان کے اعتماد سے بھی جڑا ہے۔
لہٰذا حکومت، عالمی اداروں اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
تب ہی پاکستان کو پولیو فری بنایا جا سکے گا۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
news
دہشت گردوں سے ہزار سال جنگ کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

دہشت گردوں سے ہزار سال جنگ کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ آخری حد تک لڑی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی صورت بندوق کے زور پر نظریہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ اس کے برعکس 145 دہشت گرد مارے گئے جن کی لاشیں حکومتی تحویل میں ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کو بلوں سے نکال کر انجام تک پہنچایا جائے گا۔
دہشت گرد بلوچ نہیں، قاتل ہیں
کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے 31 معصوم شہریوں کو شہید کیا۔ گوادر میں پانچ خواتین اور تین بچوں کو بھی قتل کیا گیا۔ شہید ہونے والا خاندان خضدار سے تعلق رکھتا تھا اور بلوچ تھا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو بلوچ کہتے ہیں وہ بلوچ نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔ یہ عناصر بلوچ عوام کو غیر ملکی ایجنڈے کے لیے ایندھن بنا رہے ہیں۔
افغان سرزمین کے استعمال پر تشویش
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔ بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر افغانستان میں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس حملوں سے قبل انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں۔ اسی بنیاد پر ایک دن پہلے آپریشن شروع کیا گیا۔
مذاکرات نہیں، فیصلہ کن کارروائی ہوگی
مذاکرات سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ جماعت نہیں۔ دہشت گردی سے بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ یہ عناصر بھارت کے اشاروں پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست ایک سیکنڈ کے لیے بھی سرنڈر نہیں کرے گی۔ اگر ضرورت پڑی تو یہ جنگ ہزار سال تک لڑی جائے گی۔
خواجہ آصف کا سخت پیغام
ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مسنگ پرسنز کے معاملے کو فراڈ قرار دیا۔ ان کے مطابق زیادہ تر لاپتہ افراد کالعدم تنظیموں کے رکن تھے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے اور بی ایل اے ایک فارن فنڈڈ تنظیم ہے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دی ہے اور پراکسیز کا خاتمہ کر کے دم لیں گی۔
- news6 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل9 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news10 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news10 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






