Connect with us

انٹرٹینمنٹ

سشمیتا سین بیٹی گود لینے کی کہانی

Published

on

سشمیتا سین

بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور سابقہ مس یونیورس سشمیتا سین نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی بیٹی گود لینے کی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں قانونی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ سن 2000 میں جب وہ صرف 24 سال کی تھیں، تو انہوں نے پہلی بیٹی رینی کو گود لینے کا فیصلہ کیا — حالانکہ اس وقت غیر شادی شدہ خواتین کے لیے یہ ایک غیر معمولی قدم سمجھا جاتا تھا۔

سشمیتا سین نے بتایا کہ جب وہ عدالت میں بچی کو گود لینے کا مقدمہ لے کر گئیں تو انہیں ڈر تھا کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو رینی ان سے واپس لے لی جائے گی۔ ان کے والد شوبیر سین نے اس موقع پر غیر معمولی تعاون کیا اور اپنی جائیداد کا نصف حصہ رینی کے نام کر دیا تاکہ قانونی شرط پوری ہو سکے۔

اداکارہ نے مزید بتایا کہ عدالت کے جج نے ان کے والد سے کہا،

“اگر آپ بیٹی کو گود لینے دیں گے تو اس سے کوئی اچھا لڑکا شادی نہیں کرے گا۔”
جس پر والد نے جواب دیا،
“میں نے اپنی بیٹی کو کسی کی بیوی بننے کے لیے نہیں بلکہ خود مختار انسان بننے کے لیے پالا ہے۔”

عدالت کے فیصلے کے بعد سشمیتا سین بھارت کی پہلی سنگل مدر بننے والی مشہور شخصیت بن گئیں۔ چند سال بعد انہوں نے دوسری بیٹی علیشہ کو بھی گود لیا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news

ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل: بچوں کی تربیت اور الزامات

Published

on

ڈیوڈ بیکہم بروکلن

🔴 ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل: والد نے وضاحت کر دی

ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل میں اپنے بیٹے کے حالیہ بیان پر پہلی بار موقف واضح کیا۔
بروکلن نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا تھا کہ والدین نے اس کی زندگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور والدہ نکولا پیلٹز کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا۔
ڈیوڈ بیکہم نے کہا کہ بچوں کو اپنی غلطیاں کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، کیونکہ انہی سے وہ سیکھتے ہیں۔


🔹 والد کی تربیتی سوچ اور ردعمل

ڈیوڈ بیکہم نے برطانوی ویب سائٹ کو بتایا:

“بچے غلطیاں کرتے ہیں، اسی طرح وہ سیکھتے ہیں۔ میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ انہیں سیکھنے کا موقع ملے، کبھی کبھار غلطیاں کرنے دینا ضروری ہوتا ہے۔”

یہ موقف ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل میں والد کی تربیتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی واضح کرتا ہے کہ والدین کا کام صرف رہنمائی کرنا ہے، اور بچوں کو اپنی زندگی کے تجربات کرنے دینا چاہیے۔


🔹 بروکلن کے الزامات اور خاندان میں تنازع

26 سالہ بروکلن نے الزام لگایا کہ ان کی والدہ نے اپریل 2022 میں شادی سے قبل اچانک نکولا کے لیے ویڈنگ گاؤن تیار کرنے سے دستبرداری اختیار کر لی۔
یہ بیان خاندان میں پیدا ہونے والے اختلافات کی تازہ مثال ہے اور میڈیا میں دھماکا خیز ردعمل پیدا کر رہا ہے۔

مزید براں، سوشل میڈیا پر یہ واقعہ وائرل ہوا جس سے عوام میں شدید بحث چھڑ گئی۔
اس سلسلے میں برطانوی میڈیا رپورٹس اور TMZ نے بھی خبر شائع کی ہے (TMZ


🔹 والدین اور بچوں کے تعلقات پر اثر

ڈیوڈ بیکہم بروکلن ردعمل یہ بھی واضح کرتا ہے کہ والدین کبھی کبھار بچوں کو خود سیکھنے دینا چاہتے ہیں۔
یہ والدین کی ذمہ داری اور بچوں کی آزادی کے درمیان توازن پر روشنی ڈالتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: مشہور شخصیات کے خاندانی تنازعات


🔹 سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

بروکلن کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔
بہت سے صارفین نے والد کے صبر اور سمجھداری کو سراہا، جبکہ بعض نے بروکلن کے موقف کی حمایت کی۔

Continue Reading

انٹرٹینمنٹ

ڈکی بھائی اغوا کیس، ملزمان کے خلاف درخواست دائر

Published

on

ڈکی بھائی

لاہور: ڈکی بھائی اغوا کیس میں عدالت میں دائر درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق اغوا کا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا۔


🔹 اغوا کا الزام اور ملزمان کے نام

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان میں حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ شامل ہیں۔
درخواست کے مطابق انہوں نے رجب بٹ کی گاڑی میں گھات لگا کر منیب کو اغوا کیا۔
منیب، معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کا بھائی بتایا گیا ہے۔


🔹 ویڈیو ریکارڈنگ کا دعویٰ

درخواست کے مطابق رجب بٹ اور مان ڈوگر نے منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈالا۔
بعد ازاں اسے گاڑی میں قید کر دیا گیا۔
اسی دوران حیدر علی نے پورے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کی۔


🔹 پنجرے میں بند کرنے کا الزام

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منیب کو مرغیوں کے ایک پنجرے میں بند کیا گیا۔
بعد میں اغوا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔
یوں واقعے نے عوامی سطح پر تشویش پیدا کی۔


🔹 بازیابی اور سوشل میڈیا ردعمل

درخواست گزار کے مطابق ڈکی بھائی نے قانونی کارروائی کے بجائے خود جا کر بھائی کو بازیاب کروایا۔
اس تمام عمل کی ویڈیو بھی بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔
چنانچہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا۔


🔹 سماجی اثرات پر تشویش

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی وائرل ویڈیوز لاقانونیت کو فروغ دیتی ہیں۔
مزید یہ کہ تشدد اور انتہا پسندی کو عام کیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔


🔹 قانونی مؤقف

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملزمان کے اقدامات عوامی اخلاقیات کے خلاف ہیں۔
اس کے ساتھ ہی یہ امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ عمل ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آخر میں کہا گیا کہ ڈکی بھائی اغوا کیس میں ملوث افراد قابلِ سزا جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~