انٹرنیشنل
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان: پاک افغان جنگ پر تشویش اور ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد واپس آکر اس صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
ٹرمپ نے امریکا سے اسرائیل جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار پھر امن کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ “جنگیں ختم کرنے میں ماہر” ہیں۔ امریکی صدر نے مزید بتایا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کی ممکنہ جنگ کو انہوں نے ٹیرف کی مدد سے روکنے میں کردار ادا کیا تھا۔
دوسری جانب پاک فوج نے افغان طالبان اور بھارت کے حمایت یافتہ گروہ فتنہ الخوارج کے حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کی 21 چوکیاں تباہ کر دیں اور متعدد مقامات پر عارضی قبضہ حاصل کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کی فضائی کارروائیوں میں طالبان کے کیمپ اور چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 200 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے۔ جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 29 زخمی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق دشمن کے جنگجو اپنے ٹھکانے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
انٹرنیشنل
ٹرمپ کا گرین لینڈ پر دعویٰ، تجارتی ٹیرف کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر دیگر ممالک نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی حمایت نہ کی تو ان پر تجارتی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹیجک جغرافیائی حیثیت امریکا کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق اس خطے میں موجود معدنی وسائل بھی امریکی مفادات کے لیے ضروری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل نہ کیا تو قومی سلامتی میں ایک بڑا خلا پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر نیٹو کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
گرین لینڈ کے عوام امریکی ارادوں پر تشویش میں مبتلا
اس معاملے پر امریکی سینیٹر کرس کونز نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں دیے گئے کئی بیانات محض سیاسی بیان بازی ہیں۔ ان کے مطابق گرین لینڈ امریکا کا اتحادی ہے، کوئی جائیداد نہیں۔
انٹرنیشنل
ٹرمپ کی ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں کے تناظر میں سخت بیان دیا ہے۔
انہوں نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کی اپیل کی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے لیے مدد راستے میں ہے۔
اسی کے ساتھ انہوں نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھتے ہیں تو امریکا سخت اقدامات کر سکتا ہے۔
ان ممکنہ اقدامات میں فضائی حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی اہداف میں ایرانی فوجی تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مراکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز بھی ممکنہ اہداف قرار دیے جا رہے ہیں۔
حکومتی سطح کے اہم رہنماؤں پر بھی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب قطر نے ممکنہ فوجی تصادم پر تشویش ظاہر کی ہے۔
قطری حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جنگ کے خطے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
ٹائم میگزین کے مطابق ٹرمپ کے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔
عالمی توجہ اس سوال پر مرکوز ہو گئی ہے کہ اگر امریکا کارروائی کرتا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق یہ بھی زیر بحث ہے کہ امریکی اقدام محدود ہوگا یا وسیع پیمانے پر۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر کو مختلف آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا



