Connect with us

news

ہائی وے منصوبے پر 170 ارب کا تنازعہ، کمپنی اور سینیٹر آمنے سامنے

Published

on

ہائی وے منصوبے

اربوں روپے کے ہائی وے منصوبےکے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک طرف ٹھیکیدار کمپنی ہے تو دوسری طرف سینیٹ کے رکن سینیٹر سیف اللہ ابڑو۔ یہ تنازع اس وقت منظر عام پر آیا جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی نے ایک جوائنٹ وینچر کی جانب سے دی گئی 170 ارب روپے مالیت کی بولی کو جعلی قرار دیا۔ اس بولی کا تعلق این-55 ہائی وے کے توسیعی منصوبے سے ہے۔

بولی دینے والی کمپنی نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سینیٹ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال روکا جائے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ایک حاضر سروس سینیٹر ہائی وے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور بولی ہارنے والی کمپنیاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں تاکہ پہلے سے مکمل کیے گئے ٹینڈر عمل کو دوبارہ کھولا جائے۔

دوسری جانب سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اس خط کو “دباؤ ڈالنے کی کوشش” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی جعلی دستاویزات استعمال کرتی رہی ہے اور یہ حقیقت کمیٹی میں این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔ سینیٹر ابڑو نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

یہ تنازع ایسے وقت پر شدت اختیار کر رہا ہے جب دیگر سرکاری منصوبوں میں بھی ٹھیکیداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں جاری ورلڈ بینک کے قرض سے چلنے والے PICIIP منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خادم علی روڈ پر غیر معیاری کام کیا گیا ہے، پائپ بچھانے کے بعد سڑک جگہ جگہ سے خراب ہو چکی ہے، جبکہ شہر کے باہر بننے والا ڈسپوزل پلانٹ تاحال فعال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ٹھیکیدار نہ صرف بااثر ہے بلکہ پارلیمنٹ کا رکن بھی ہے، جس کے باعث احتساب تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق یہ ان کا حلقہ ہے، اس لیے عوامی مفاد میں آواز بلند کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news

ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری و توسیع کی منظوری

Published

on

آصف علی زرداری

ہائی کورٹ ججز تقرری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات پر اعلیٰ عدلیہ میں نئی تقرریوں اور توسیعات کی منظوری دے دی۔

یہ فیصلے وزیراعظم کے مشورے سے کیے گئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
ساتھ ہی زیرِ التوا مقدمات کے جلد فیصلے کو یقینی بنانا بھی ترجیح ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔
ان میں جسٹس میران محمد شاہ، جسٹس تسنیم سلطانہ اور جسٹس ریاضت علی سحر شامل ہیں۔
اسی طرح جسٹس محمد حسن، جسٹس عبدالحمید بھگی اور جسٹس جان علی جونیجو بھی مستقل ہوئے۔
جسٹس نثار احمد بھنبھرو، جسٹس علی حیدر، جسٹس محمد عثمان علی ہادی اور جسٹس محمد جعفر رضا کو بھی مستقل حیثیت مل گئی۔

مزید برآں، سندھ ہائی کورٹ کے دو ایڈیشنل ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔
ان میں جسٹس خالد حسین شاہانی اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ شامل ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں ہائی کورٹ ججز تقرری کے تحت 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنا دیا گیا۔
ان میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی شامل ہیں۔

Continue Reading

head lines

مری میں برفباری: 12 سے 20 انچ تک برف پڑنے کا امکان

Published

on

مری میں برفباری

مری میں برفباری کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں اور اہم مقامات کی صفائی اور مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ آج اور کل مری میں بارش اور برف باری کی شدت برقرار رہے گی، اور متاثرہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

حکام نے کہا کہ تمام حساس شاہراہوں اور پوائنٹس پر مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رد عمل ممکن ہو۔ علاوہ ازیں، مری میں موجود ہوٹل اور رہائشی مقامات کو بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ برف باری کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

مزید یہ کہ صوبائی وزیر مواصلات نے ایمرجنسی ٹیموں کو الرٹ رہنے اور برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے لیے معلومات فراہم کرتے رہیں اور کسی بھی وقت ریسکیو آپریشن کے لیے تیار رہیں۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~