news
وفاقی حکومت نے دریائے سندھ پر نہروں کا منصوبہ ختم کردیا

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/04/pic_61cee_1745508708.jpg&description=وفاقی حکومت نے دریائے سندھ پر نہروں کا منصوبہ ختم کردیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/04/pic_61cee_1745508708.jpg&description=وفاقی حکومت نے دریائے سندھ پر نہروں کا منصوبہ ختم کردیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
وفاقی حکومت نے دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے منصوبے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان باہمی مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر آبپاشی نے وفاقی نمائندگان سے ملاقات کی، جس میں سندھ حکومت نے اپنا مؤقف پیش کیا۔ ملاقات کے دوران انڈس ریور سسٹم سے متعلق مکمل ریکارڈ وفاق کے سامنے رکھا گیا اور سندھ کی آبی ضروریات و خدشات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے کھلی جارحیت اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سنگین خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی نہ صرف ایک اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام خطے میں جاری امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت ماضی میں بھی فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم سے ہٹانے کی کوشش کرتا رہا ہے، جیسا کہ صدر کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران ایک فالس فلیگ آپریشن کے تحت بے گناہ سکھوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام میں حالیہ واقعہ بھی اسی پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، جن میں اے پی ایس سانحہ، بینظیر بھٹو کی شہادت، اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں و شہریوں کی جانیں شامل ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی محض ایک آبی تنازعہ نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت طاقت کے نشے میں جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اس اشتعال انگیزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے بھارتی اقدام کو اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت اور عالمی ضمیر کے منہ پر طمانچہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی ادارے اور طاقتیں فوری مداخلت کریں۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






