news
جسٹس اطہر من اللہ: ملک میں ہائبرڈ نظام آئینی حکمرانی کی نفی ہے

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کراچی بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ملک میں ہائبرڈ نظام ہے، اس کا مطلب ہے کہ یہاں آئینی حکمرانی نہیں بلکہ آمریت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اصل اقتدار عوام کے بجائے اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے اور آئینی گورننس کا تصور محض ایک خیال بن کر رہ گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق انہوں نے حلف اٹھایا ہے کہ بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کریں گے اور آئین کا تحفظ کریں گے، لیکن اگر وہ ملک میں آئین کی پامالی پر خاموش ہیں تو یہ حلف اور آئینی وفاداری دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 77 سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں شفاف انتخابات صرف ایک خواب ہیں، اور اگر کوئی یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو وہ خود کو اور اللہ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو سیاسی انجینئرنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ماضی میں ججز نے خود کو استعمال ہونے دیا، جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں ہوا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے تعلیم کے نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ہمیں اسکولوں میں جھوٹی تاریخ پڑھائی جاتی ہے، جبکہ سچ کو دبا دیا جاتا ہے، اور جب کسی معاشرے سے سچ ختم ہو جائے تو وہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔
news
افواجِ پاکستان کا عزم: وطن کی خدمت اور قربانی پر نغمہ

افواجِ پاکستان کا عزم: نغمے میں جذبے کی عکاسی
یہ نغمہ شدید موسمی حالات، برفانی طوفانوں اور ناقابلِ برداشت سردی میں افواجِ پاکستان کا عزم دکھاتا ہے۔
نغمے کے بول میں وطن کی سرحدوں کے دفاع اور مشکل حالات میں قوم کی خدمت میں مصروف فوج کی غیر معمولی فرض شناسی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نغمے میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پاک فوج شب و روز ہر خطرے کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
یہ ان کے بلند حوصلے اور غیر متزلزل جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قوم کی امیدیں اور فوج کا اعتماد
قدرتی آفات اور دیگر آزمائشوں کی ہر گھڑی میں پوری قوم افواجِ پاکستان کو اپنا مضبوط سہارا سمجھتی ہے۔
مزید یہ کہ پاک فوج نے ہر محاذ پر قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کا ثبوت دیا ہے۔
نغمے کے دل کو چھو لینے والے بول اور سحر انگیز آواز نے سماں باندھ دیا ہے، جو قوم میں پاک فوج سے والہانہ محبت، اعتماد اور فخر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
news
پاکستان میں پانی کی قلت اور سبسڈی اصلاحات: عالمی بینک رپورٹ

پاکستان میں پانی کی قلت اور زرعی چیلنجز
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
جنوبی ایشیا میں زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہے۔
ناقص آب پاشی نظام اور غیر مؤثر زرعی طریقے پانی کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔
تاہم پنجاب میں جدید آب پاشی منصوبے کے نتیجے میں 57 فیصد پانی کی بچت ہوئی ہے۔
مزید برآں، جدید زرعی منصوبوں سے فصلوں کی پیداوار میں 14 سے 31 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پانی کی مؤثر استعمال اور جدید زرعی طریقے پیداوار میں بہتری لاسکتے ہیں۔
سبسڈی اصلاحات اور سماجی تحفظ
پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
اس اقدام سے سبسڈی کی غلط تقسیم، مالی نقصان اور سرکلر ڈیٹ میں کمی آئے گی۔
بی آئی ایس پی کے ذریعے دی جانے والی امداد کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
مثال کے طور پر کرونا کے دوران ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی۔
کلائمٹ رسک اور چھوٹے کاروباروں کی حمایت
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کاروباروں کے لیے کلائمٹ رسک فیسلٹی قائم کی جا رہی ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان اور مالدیپ میں امداد کے لیے خود رجسٹریشن کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کو سماجی تحفظ کے پروگراموں میں استعمال کرنے سے براہِ راست فائدہ ہوگا اور مالی وسائل مؤثر طریقے سے خرچ ہوں گے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






