news
رانا ثناء اللہ: سیاسی مسائل اسٹیبلشمنٹ سے نہیں، مذاکرات سے حل ہوں گے

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/01/رانا-ثناءاللہ.jpg&description=رانا ثناء اللہ: سیاسی مسائل اسٹیبلشمنٹ سے نہیں، مذاکرات سے حل ہوں گے', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/01/رانا-ثناءاللہ.jpg&description=رانا ثناء اللہ: سیاسی مسائل اسٹیبلشمنٹ سے نہیں، مذاکرات سے حل ہوں گے', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
وفاقی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یہ سمجھتی تھی کہ وہ اپنے سیاسی مسائل کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کرلے گی، لیکن سیاسی مسائل کا حل صرف اسی وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی قیادت مل بیٹھے اور مذاکرات کرے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت بری طرح اپنے اندرونی معاملات میں الجھی ہوئی ہے، اور جب تک وہ خود الجھی رہے گی، ملکی سیاست بھی اسی الجھن کا شکار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جب سے ایک سیاسی حیثیت ملی ہے، وہ ملک کی سیاست کو ایسی سمت میں لے جا رہے ہیں جہاں جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جس راستے پر چلنا چاہتی ہے، اس سے نہ جمہوریت کو تقویت ملے گی اور نہ ہی ملک کو استحکام حاصل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے کسی گھر میں اگر ایک فرد باقی سب کے خلاف ہو جائے اور یہ طے کر لے کہ کسی کو نہیں چھوڑنا، تو پورے گھر کا نظام بگڑ جاتا ہے، ویسے ہی پی ٹی آئی کا رویہ ملک میں سیاسی انتشار کا باعث بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، عمران خان 2011 سے اب تک یہی کہتے آ رہے ہیں کہ “میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا”، اور یہ طرز عمل مذاکرات اور مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اسی پروگرام میں پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس بپی نے رانا ثناء اللہ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات پر بات کرنا دراصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور اوورسیز کنونشن کامیاب رہا، تو حقیقت یہ ہے کہ عوام کو کسی بھی شعبے میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی حالت زار انتہائی خراب ہے، ایک کسان کی فی ایکڑ لاگت ایک لاکھ چالیس ہزار روپے آتی ہے جبکہ گندم فی من 2100 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جس سے کسانوں کو صرف ایک لاکھ روپے ملتے ہیں۔ حکومت کسان کے نقصان کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں بند ہو رہی ہیں، مینوفیکچرنگ کا شعبہ نیچے جا رہا ہے، امن و امان کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن حکومت کو صرف پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست اہم لگ رہی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






