head lines
امریکہ چین تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی پر اتفاق

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/10/pic_33489_1761808323-1000x540.jpg&description=امریکہ چین تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی پر اتفاق', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/10/pic_33489_1761808323-1000x540.jpg&description=امریکہ چین تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی پر اتفاق', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
امریکہ چین تجارتی معاہدہ آخرکار طے پا گیا۔ دونوں ممالک نے ٹیرف میں کمی اور تجارت کی بحالی پر اتفاق کر لیا۔ یہ پیشرفت عالمی سطح پر بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔ معاہدہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہوا۔
صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بوسان میں ہوئی۔ یہ دونوں رہنماؤں کی 2019 کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔ ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران اہم فیصلے ہوئے اور کئی رکاوٹیں دور ہوئیں۔ ملاقات کا اختتام گرم جوشی سے ہوا۔ صدر ٹرمپ نے صدر شی سے مصافحہ کیا اور انہیں گاڑی تک چھوڑنے بھی گئے۔ یہ منظر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ چین تجارتی معاہدہ ایک متوازن ڈیل ہے۔ اس کے تحت امریکہ نے ٹیرف میں نرمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جواب میں چین نے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نایاب معدنیات کی برآمدات بھی جاری رہیں گی۔ چین نے فینٹانل کی اسمگلنگ روکنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چین تجارتی معاہدہ ایک سال کے لیے طے پایا ہے۔ اس معاہدے میں باقاعدہ توسیع بھی کی جائے گی۔ امریکی ٹیرف 57 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ نایاب معدنیات پر تنازع بھی ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ برس اپریل میں چین کا دورہ کریں گے۔ جبکہ صدر شی بھی امریکہ آئیں گے۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
head lines
آبی ذخائر کا تحفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے پر سخت مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائر نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں پانی کے تحفظ کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ موقع دیرپا آبی پالیسیوں پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے تک محدود نہیں۔
بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہتری کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ایک موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
چنانچہ یہ دن آبی وسائل کے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
نتیجتاً یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی اثرات سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئرز، جھیلیں اور ساحلی نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






