head lines
امریکہ چین تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کمی پر اتفاق
امریکہ چین تجارتی معاہدہ آخرکار طے پا گیا۔ دونوں ممالک نے ٹیرف میں کمی اور تجارت کی بحالی پر اتفاق کر لیا۔ یہ پیشرفت عالمی سطح پر بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے۔ معاہدہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہوا۔
صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات بوسان میں ہوئی۔ یہ دونوں رہنماؤں کی 2019 کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔ ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران اہم فیصلے ہوئے اور کئی رکاوٹیں دور ہوئیں۔ ملاقات کا اختتام گرم جوشی سے ہوا۔ صدر ٹرمپ نے صدر شی سے مصافحہ کیا اور انہیں گاڑی تک چھوڑنے بھی گئے۔ یہ منظر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ چین تجارتی معاہدہ ایک متوازن ڈیل ہے۔ اس کے تحت امریکہ نے ٹیرف میں نرمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جواب میں چین نے سویابین کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نایاب معدنیات کی برآمدات بھی جاری رہیں گی۔ چین نے فینٹانل کی اسمگلنگ روکنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چین تجارتی معاہدہ ایک سال کے لیے طے پایا ہے۔ اس معاہدے میں باقاعدہ توسیع بھی کی جائے گی۔ امریکی ٹیرف 57 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ نایاب معدنیات پر تنازع بھی ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ برس اپریل میں چین کا دورہ کریں گے۔ جبکہ صدر شی بھی امریکہ آئیں گے۔