head lines
سیکیورٹی فورسز کا میر علی اور مہمند میں دہشتگردوں پر بڑا آپریشن

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/11/شمالی-وزیرستان-2-1000x600.jpeg&description=سیکیورٹی فورسز کا میر علی اور مہمند میں دہشتگردوں پر بڑا آپریشن', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/11/شمالی-وزیرستان-2-1000x600.jpeg&description=سیکیورٹی فورسز کا میر علی اور مہمند میں دہشتگردوں پر بڑا آپریشن', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنا دیے۔
ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خوارج نے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر خودکش حملے کی کوشش کی۔ ایک خارجی نے بارود سے بھری گاڑی کیمپ کی دیوار سے ٹکرائی جبکہ مزید تین دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ تاہم فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام دہشت گردوں کو کیمپ کے باہر ہی ہلاک کر دیا۔
اس حملے میں سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں افغان طالبان کے حمایت یافتہ 88 خوارج مارے جا چکے ہیں۔
ادھر خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں پاک فوج نے دراندازی کی کوشش ناکام بنا کر بھارتی حمایت یافتہ فتنتہ الخوارج کے 45 سے 50 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ کارروائی خفیہ معلومات پر مبنی تھی، جس میں دہشت گردوں کی بڑی تعداد کو نشانہ بنایا گیا۔
آپریشن کے دوران کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
ذرائع کے مطابق فتنتہ الخوارج کے یہ گروہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ قوم کی حمایت سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔
یہ حالیہ کامیابیاں واضح کرتی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے امن و استحکام کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
head lines
آبی ذخائر کا تحفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے پر سخت مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائر نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں پانی کے تحفظ کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ موقع دیرپا آبی پالیسیوں پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے تک محدود نہیں۔
بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہتری کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ایک موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
چنانچہ یہ دن آبی وسائل کے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
نتیجتاً یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی اثرات سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئرز، جھیلیں اور ساحلی نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






