کاروبار
مصنوعی ذہانت سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ: وزیراعظم شہباز شریف کا وژن

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔
مزید برآں، حکومت معیشت کو ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم، صحت اور صنعت کے شعبوں میں نئی راہیں کھولے گی۔
🔹 اہم اجلاس کی تفصیلات
اسی دوران، وزیراعظم کی زیرِ صدارت مصنوعی ذہانت کے فروغ سے متعلق اجلاس ہوا۔
اجلاس میں ڈیجیٹل معیشت کے دائرہ کار کو بڑھانے کے فیصلے کیے گئے۔
اس کے علاوہ، ماہرین نے جدید ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال پر تجاویز پیش کیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کو حکومتی ترجیحات میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔
🔹 ڈیجیٹل معیشت کے لیے حکومتی اقدامات
شہباز شریف نے واضح کیا کہ ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔
تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو شفافیت اور عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے۔
دوسری جانب، حکومت کا مقصد نوجوانوں کے لیے نئی روزگار کی راہیں پیدا کرنا ہے۔
مزید یہ کہ، ڈیجیٹل معیشت پاکستان کو خطے میں نمایاں پوزیشن دلائے گی۔
🔹 ذمہ دارانہ استعمال اور قومی پالیسی
وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی عوامی فلاح کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔
لہٰذا، اسے تعلیم، زراعت، صحت اور سکیورٹی کے نظام میں مؤثر طور پر شامل کیا جائے۔
نتیجتاً، پاکستان ڈیجیٹل دور میں مستحکم مقام حاصل کر سکے گا۔
news
بجلی صارفین کیلئے بری خبر، فی یونٹ قیمت بڑھنے کا امکان

بجلی قیمت میں اضافہ: فی یونٹ 48 پیسے بڑھنے کا امکان
بجلی قیمت میں اضافہ سے متعلق اہم خبر سامنے آ گئی ہے۔
ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر مہنگائی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
یہ اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں متوقع ہے۔
نیپرا میں سی پی پی اے کی درخواست
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی ہے۔
اس درخواست پر نیپرا اتھارٹی کل سماعت کرے گی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ماہ دسمبر کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔
اسی عرصے میں ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔
پیداواری لاگت اور ایندھن کا تناسب
سی پی پی اے کے مطابق دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔
مزید تفصیلات کے مطابق بجلی کی پیداوار میں مختلف ذرائع کا حصہ نمایاں رہا۔
ہائیڈل ذرائع سے 18.07 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 13.99 فیصد رہی۔
درآمدی ایندھن اور نیوکلیئر بجلی
درآمدی کوئلے سے 10.13 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار 11.20 فیصد رہی، جبکہ درآمدی گیس سے 17.24 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔
اس کے علاوہ نیوکلیئر ذرائع سے دسمبر کے دوران 25.05 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جو مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ ہے۔
صارفین کیلئے ممکنہ اثرات
اگر نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست منظور کر لی تو بجلی صارفین کو آئندہ ماہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
ماہرین کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کے بلوں میں فوری اثر ڈالتی ہے، جس سے گھریلو اور کمرشل صارفین دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
کاروبار
گورنر سٹیٹ بینک: نئے کرنسی نوٹ کی تیاری آخری مراحل میں

نئے کرنسی نوٹ سے متعلق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک اہم پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق ملک میں نئے کرنسی نوٹ کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بات مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔
ابتدائی طور پر انہوں نے واضح کیا کہ نئے ڈیزائن کے نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔
نئے کرنسی نوٹ اور وفاقی کابینہ کی منظوری
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ کے ڈیزائن پہلے ہی وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔
اب کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی تیاری کا تکنیکی عمل خاصا آگے بڑھ چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی خصوصیات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
نئے کرنسی نوٹ کی چھپائی کا مرحلہ
جمیل احمد نے کہا کہ منظوری کے بعد دو سے تین مختلف مالیت کے نئے کرنسی نوٹ کی چھپائی شروع ہوگی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تمام مالیت کے نوٹس ایک ساتھ جاری نہیں کیے جائیں گے۔
مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ چھپائی مرحلہ وار کی جائے گی۔
اسی لیے نئے نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
نئے کرنسی نوٹ کب مارکیٹ میں آئیں گے؟
گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق نئے کرنسی نوٹ اس وقت گردش میں لائے جائیں گے جب مناسب سٹاک دستیاب ہوگا۔
بعد ازاں موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل کا مقصد مارکیٹ میں کسی قسم کی بے چینی یا قلت سے بچاؤ ہے۔
لہٰذا پرانے اور نئے نوٹس کچھ عرصے تک ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔
news5 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل8 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news9 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news9 months agoوزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






