news
2025 میں قابل تجدید توانائی نے عالمی سطح پر کوئلہ کو پیچھے چھوڑ دیا

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/01/قابل-تجدید-توانائی-1000x600.jpeg&description=2025 میں قابل تجدید توانائی نے عالمی سطح پر کوئلہ کو پیچھے چھوڑ دیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/01/قابل-تجدید-توانائی-1000x600.jpeg&description=2025 میں قابل تجدید توانائی نے عالمی سطح پر کوئلہ کو پیچھے چھوڑ دیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2030 تک قابل تجدید توانائی کی پیداوار کی صلاحیت دگنی ہو جائے گی، جس میں شمسی توانائی کا حصہ 80 فیصد ہوگا۔ اس موقع پر انرجی تھنک ٹینک Ember نے بھی اپنی رپورٹ “گلوبل الیکٹرسٹی ریویو: مڈ ایئر انسائٹ 2025” جاری کی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا کہ قابل تجدید ذرائع نے تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئلے پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں سولر اور ہوا سے بننے والی بجلی نے کوئلہ اور گیس جیسے روایتی ذرائع کو پیچھے چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں ان فاسل فیولز کے استعمال میں معمولی کمی آئی۔ Ember کے گلوبل پروگرام ڈائریکٹر، راؤل مرانڈا نے اس رجحان کو “ناقابلِ روک انقلاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھرتی معیشتیں جیسے ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا میں یہ تبدیلی تیزی سے رونما ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع نہ صرف بڑھتی ہوئی بجلی کی عالمی طلب پوری کر رہے ہیں بلکہ معاشی ترقی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔
پانچ برس قبل IEA نے پیش گوئی کی تھی کہ 2025 تک قابل تجدید توانائی کا حصہ 33 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ تاہم Ember کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح 2025 کے پہلے نصف میں ہی 34.3 فیصد تک پہنچ گئی، جب کہ کوئلے کا حصہ کم ہو کر 33.1 فیصد رہ گیا۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






