news
خواجہ آصف، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اسرائیلی حملے کا ردعمل نہیں

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/10/khawaja-Asif.jpeg&description=خواجہ آصف، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اسرائیلی حملے کا ردعمل نہیں', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/10/khawaja-Asif.jpeg&description=خواجہ آصف، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اسرائیلی حملے کا ردعمل نہیں', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
وزیر دفاع پاکستان خواجہ آصف نے معروف صحافی مہدی حسن کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں نہیں کیا گیا بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان پچھلے پانچ سے چھ دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات کو باضابطہ معاہدے کی شکل دینے کا عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں موجود ہیں اور ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب وہاں تقریباً چار سے پانچ ہزار پاکستانی فوجی تعینات تھے۔
ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ وہ معاہدے کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے، لیکن یہ واضح ہے کہ اس معاہدے کا مقصد پہلے سے موجود شراکت داری کو ایک باقاعدہ اسٹرکچر میں تبدیل کرنا تھا، نہ کہ کوئی نیا یا ہنگامی نوعیت کا معاہدہ کرنا۔ یہ دفاعی تعاون پہلے صرف مخصوص لین دین یا ضرورت کے تحت ہوتا تھا، اب اسے ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔
جوہری ہتھیاروں سے متعلق سوال پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان تحمل اور عالمی اصولوں کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد دنیا کی کوئی جوہری طاقت ان ہتھیاروں کے استعمال کی حامی نہیں رہی، اور پاکستان بھی اسی پالیسی پر کاربند ہے۔ خواجہ آصف نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ موجودہ جیوپولیٹیکل حالات میں پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں کردار ادا کر سکتا ہے، لیکن فی الحال امریکا کی طرف سے پاکستان پر کوئی دباؤ یا مطالبہ نہیں ہے، اور اگر کوئی مطالبہ آیا بھی تو پاکستان اپنے قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






