news
خواجہ آصف کا اہم بیان، پاکستان کا ایران کو فوجی امداد کی تردید

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/10/khawaja-Asif.jpeg&description=خواجہ آصف کا اہم بیان، پاکستان کا ایران کو فوجی امداد کی تردید', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/10/khawaja-Asif.jpeg&description=خواجہ آصف کا اہم بیان، پاکستان کا ایران کو فوجی امداد کی تردید', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بین الاقوامی میڈیا میں ایران کو پاکستانی عسکری امداد فراہم کرنے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 13 جون کے بعد کسی بھی قسم کا نیا دفاعی معاہدہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسی کوئی ضرورت پیش آئی ہے۔ خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ ایران کے ساتھ صرف بارڈر سیکیورٹی سے متعلق معمول کے رابطے جاری ہیں جو پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی توجہ چین اور مسلم ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات پر مرکوز ہے، اور حالیہ ایران و اسرائیل کشیدگی پر امریکہ سے کوئی مخصوص بات چیت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری تنازع ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، اس لیے پاکستان اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ خطے کے ممالک کو امن کی جانب راغب کیا جائے۔ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان اپنی سرحدی سیکیورٹی پر زیادہ توجہ دے گا، تاہم پاکستان کی اولین ترجیح علاقائی امن کا قیام ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر محفوظ اور مضبوط حفاظتی اقدامات کے تحت ہیں، اور ان کے تحفظ پر حکومت کو مکمل اطمینان ہے۔ قبل ازیں وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار صرف ملکی دفاع کے لیے ہیں
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
news7 months ago14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
کھیل10 months agoایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
news11 months agoرانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
news11 months agoاداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






