Connect with us

music

مہک ملک پر فحش گانوں پر رقص کا مقدمہ، 35 افراد پر بھی الزامات

Published

on

mehak malik

پاکستان کی مشہور خواجہ سرا رقاصہ مہک ملک کے خلاف ایک شادی کی نجی تقریب میں فحش گانوں پر رقص کرنے کی وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

خبروں کے مطابق، مہک ملک اور 35 دیگر افراد پر ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے، لیکن ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مہک ملک کو منڈی یزمان کے ایک گاؤں میں ہونے والی مہندی کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کے دوران، مہک ملک نے مبینہ طور پر نیم عریاں لباس پہنا اور فحش گانوں پر رقص کیا۔ دیگر افراد پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ اس پر نوٹ نچھاور کر رہے تھے۔

مقدمے میں 10 افراد کا نام لیا گیا ہے، جبکہ 25 نامعلوم افراد کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تقریب میں کچھ سرکاری ملازمین، بشمول ایک پولیس کانسٹیبل، موجود تھے، لیکن انہیں مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

music

ترنم ناز نے زندگی کا سب سے بڑا دکھ شیئر کیا

Published

on

نہایت معروف اور سینیئر کلاسیکل گلوکارہ ترنم ناز نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا دکھ مداحوں کے ساتھ شیئر کیا۔

ترنم ناز حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن شو میں نظر آئیں اور اپنی زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے زمین خریدی اور دل سے اپنا گھر بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان کے بچے اس وقت چھوٹے تھے، اس لیے انہوں نے یہ گھر بچوں کے نام کر دیا۔ ترنم ناز نے دکھ بھری آواز میں کہا، “چاہے گھر میرے نام ہو یا بچوں کے، ایک ہی بات ہے۔”

تاہم، جب بچے بڑے ہوئے اور ان کی شادیاں ہوئیں، تو وہ گھر میں حصہ مانگنے لگے۔ ترنم ناز نے کہا کہ والدین کی حیثیت اور اہمیت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب وہ خود اپنی پراپرٹی کے مالک ہوں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اپنا گھر بچوں کے نام کرنا ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ گلوکارہ نے کہا کہ اس کا رنج تاحیات رہے گا۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ بچے اب بھی تابعدار ہیں، لیکن اگر گھر ان کے نام ہوتا تو صورت حال مختلف اور بہتر ہوتی۔

ترنم ناز کو ان کی پاورفل آواز اور کلاسیکل پی ٹی وی گانوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ استاد عاشق حسین کی شاگردہ رہ چکی ہیں اور میڈم نور جہاں کی مماثلت بھی رکھتی ہیں۔

ان کی کلاسیکل موسیقی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترنم ناز کی کہانی والدین اور بچوں کے تعلقات میں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہے، خاص طور پر جب بات جائداد اور وراثت کی ہو۔

Continue Reading

drama

صبا قمر کی شادی پر کھری بات، ’قسمت کا انتظار‘

Published

on

صبا قمر

اداکارہ صبا قمر نے اپنی شادی کے بارے میں واضح اور سادہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کے دباؤ یا جلد بازی پر یقین نہیں رکھتیں۔ صبا قمر کے مطابق، شادی تب ہی ہوگی جب وہ قسمت میں لکھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں لوگ جتنے مرضی سوال کریں، جواب ہمیشہ ایک ہی رہے گا—تقدیر کے فیصلے بے مثال ہوتے ہیں۔

عثمان مختار سے متعلق مشہور تاثر

ایک پوڈکاسٹ میں میزبان نے اداکارہ سے سوال کیا کہ عثمان مختار کے ساتھ جتنی بھی ہیروئنز کام کرتی ہیں، ان کی جلد شادی ہو جاتی ہے۔ اس بات کا خوب چرچا رہتا ہے۔ میزبان نے پوچھا کہ کیا صبا قمر بھی اسی فہرست میں شامل ہونے والی ہیں؟

اس پر اداکارہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ جو کچھ لکھا ہے، وہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی وہ آن اسکرین رومانس سے لطف اندوز ہو رہی ہیں اور اپنی پروفیشنل زندگی پر توجہ دے رہی ہیں۔

محبت اور وقت نہ ہونے کا مسئلہ

صبا قمر نے بتایا کہ محبت کے لیے وقت نکالنا ان کے لیے مشکل ہے۔ ان کی مصروفیات اتنی زیادہ ہیں کہ آٹھ گھنٹے کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں وہ کس طرح رومینٹک لائف کے بارے میں سوچ سکتی ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ زندگی میں ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔

’شادی، محبت اور بچے سب تقدیر میں‘

اداکارہ کا کہنا تھا کہ انسان چاہ کر بھی کچھ بدل نہیں سکتا۔ محبت، شادی اور بچے سب قسمت میں لکھے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی چیز وقت سے پہلے ملتی ہے اور نہ دیر سے۔ صبا قمر نے کہا کہ لوگ جتنا زور لگا لیں، حاصل وہی ہوگا جو نصیب میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ زندگی کو آسان اور مثبت انداز میں دیکھتی ہیں۔ کامیابی پہلے خدا کے ہاتھ میں ہے، پھر محنت کے۔ ان کے مطابق، جب زندگی میں شادی کی گھڑی لکھی ہوگی تو وہ خود بخود آ جائے گی، چاہے لوگ کچھ بھی سوچیں یا کہیں۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~