news
سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں پر عملدرآمد کی استدعا مسترد کردی

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/12/سپریم-کورٹ-آف-پاکستان.jpg&description=سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں پر عملدرآمد کی استدعا مسترد کردی', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/12/سپریم-کورٹ-آف-پاکستان.jpg&description=سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں پر عملدرآمد کی استدعا مسترد کردی', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 39 اراکین اسمبلی کی بنیاد پر فوری مخصوص نشستیں دینے کی استدعا مسترد کر دی۔ سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیا الیکشن کمیشن نے 39 اراکین کو پی ٹی آئی کا باضابطہ طور پر ڈکلیئر کیا ہے؟
سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو 39 اراکین کی بنیاد پر تناسب طے کر کے مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں، جو کہ قانون اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ فیصلے پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے۔
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے عدالت کو بتایا کہ مخصوص نشستوں کی تقسیم کے لیے مجموعی نشستوں کے تناسب کا فارمولا طے کیا جا رہا ہے، اور تاحال کسی بھی پارٹی کو مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی گئیں۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا دیگر جماعتوں کو نشستیں الاٹ کی گئی ہیں؟ جس پر ڈی جی لاء نے جواب دیا کہ نہیں، ابھی کسی کو نشستیں نہیں دی گئیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ 80 نشستوں کے تناسب سے تو پی ٹی آئی کی 22 یا 23 مخصوص نشستیں بنتی ہیں، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ جب 39 اراکین کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا گیا ہے، تو ان کے حساب سے مخصوص نشستیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟
الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمنٹ نے قانون سازی کی ہے جس کے مطابق اگر کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی میں اپنی سیاسی وابستگی ظاہر کر دی ہو تو اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، اور یہی مؤقف عدالت میں نظرثانی درخواست کے طور پر زیر التوا ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو یہ سپریم کورٹ کے مستقبل کے لیے خطرناک اشارہ ہوگا۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کل دلائل کا آغاز کریں گے۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






