head lines
جسٹس اعجاز سواتی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر، جوڈیشل کمیشن نے منظوری دیدی

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس اعجاز سواتی کی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری کی منظوری دی گئی۔ یہ اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا، جہاں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے مختلف ناموں پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران، جوڈیشل کمیشن کے دیگر معزز اراکین نے جسٹس اعجاز کی اہلیت، تجربے اور عدالتی کارکردگی کی تعریف کی، جس کے بعد ان کے نام پر اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔
بعد میں، تفصیلی مشاورت کے بعد، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس اعجاز کی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری کی باضابطہ منظوری دی۔ اس سے پہلے، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 19 مئی کو ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا تبدیل کیا گیا تھا۔
یہ بتایا گیا کہ اس اجلاس میں صرف بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا معاملہ زیر غور لایا جائے گا۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے نام جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کمیشن کے 19 مئی کو بلائے گئے اجلاس میں ان چیف جسٹس کی تقرری کا معاملہ موخر کر دیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں ان چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے پر غور نہیں ہوگا۔ اب 19 مئی کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں صرف بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری پر بات چیت ہوگی۔
head lines
سانحہ گل پلازہ رپورٹ: کمشنر کراچی کی تحقیقات مکمل

سانحہ گل پلازہ رپورٹ مکمل، وزیراعلیٰ سندھ کو پیشی متوقع
سانحہ گل پلازہ رپورٹ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
کمشنر کراچی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی جائے گی۔
یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے تیار کی ہے۔
آگ لگنے کی وجوہات اور تحقیقات کی تفصیلات
تحقیقاتی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو آپریشن اور فائر بریگیڈ کی کارروائی کی مکمل تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گراؤنڈ فلور پر موجود ایک بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی۔
خاص طور پر ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹس کے ذریعے آگ اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔
اموات اور متاثرہ فلورز کی تفصیل
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک سانحے میں 79 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
زیادہ تر اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں، جہاں دھواں تیزی سے بھر گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی ٹائم لائن
رپورٹ میں واقعے کا وقت بھی درج کیا گیا ہے۔
آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی۔
پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی 10 بج کر 30 منٹ پر گل پلازہ پہنچ چکے تھے۔
ریسکیو حکام، عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
اہم نکات اور آئندہ اقدامات
تحقیقاتی رپورٹ میں مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔
مزید یہ کہ کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی تجویز دی گئی ہے۔
head lines
سپریم کورٹ کا کرایہ داری پر حتمی فیصلہ، نیا اصول طے

سپریم کورٹ کا کرایہ داری سے متعلق واضح فیصلہ
سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ ملک بھر میں کرایہ داری قوانین کو واضح کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خود بخود مالک ہوں گے۔
لہٰذا نیا کرایہ نامہ بنانا ضروری نہیں ہوگا۔
یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی حکم کے خلاف اپیل پر سنایا گیا۔
دوسری جانب عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
اسی وجہ سے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا۔
قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنا لازم
عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس جاری کیا۔
بعد ازاں کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم کرایہ داروں نے قانونی وارث کو کرایہ ادا نہیں کیا۔
حالانکہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا۔
اس کے باوجود کرایہ متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
اسی نکتے پر سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ واضح ہو گیا۔
عدالت کا سخت مؤقف
عدالت نے کہا کہ نوٹس کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا درست ادائیگی نہیں۔
چنانچہ قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔
اسی بنا پر ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔
مزید یہ کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے کرایہ داروں کا مؤقف مسترد کر دیا گیا۔
نتیجتاً بے دخلی کا حکم برقرار رکھا گیا۔
مستقبل کے مقدمات کے لیے اہم نظیر
سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ آئندہ مقدمات کے لیے ایک مضبوط قانونی مثال ہے۔
اس فیصلے سے قانونی وارثوں کے حقوق محفوظ ہو گئے ہیں۔
ساتھ ہی کرایہ داری قوانین میں موجود ابہام بھی ختم ہو گیا ہے۔
آخر میں عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یوں یہ فیصلہ مالکان اور کرایہ داروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






