حکومت
میاںوالی وفد کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر بات

میاںوالی وفد کی ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ارکان اسمبلی سے تفصیلی گفتگو کی۔
وفد میں علی حیدر نور خان، عبید اللہ خان شادی خیل، امانت اللہ خان شادی خیل، عدیل عبد اللہ خان رخڑی، ملک فیروز جوئیہ اور ملک سجاد خان بھچڑ شامل تھے۔
اس ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے اور امن و امان کے معاملات زیرِ بحث آئے۔
مزید برآں، ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔
وفد کی تعریف اور شکریہ
وفد نے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کو سراہا۔
اس کے علاوہ میانوالی میں پہلی پبلک ٹرانسپورٹ الیکٹروبس کے تحفے پر بھی اظہار تشکر کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سرگودھا کارڈیالوجی سے میانوالی کے امراض قلب کے مریض بھی فائدہ اٹھائیں گے۔
ترقیاتی منصوبے اور عوامی خدمات
مریم نواز شریف نے بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار پسماندہ اور چھوٹے اضلاع میں بڑے پراجیکٹس کا آغاز ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کو دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام بنایا جا رہا ہے۔
وفد نے کہا کہ میانوالی کے عوام کے لیے الیکٹروبس واقعی ایک اہم سہولت ہیں۔
حکومت
پارلیمانی وفد روضہ رسول ﷺ پر حاضری، سفارشات ارسال

سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری کی پیشرفت
سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کی روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے اس حوالے سے اپنی سفارشات وزارت مذہبی امور کو ارسال کر دی ہیں۔
اب وزارت مذہبی امور ان سفارشات کو حتمی منظوری کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے گی۔
قائمہ کمیٹی مذہبی امور کی اہم سفارشات
قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پارلیمانی وفد کے ہوائی ٹکٹوں کے اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے۔
اس کے علاوہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں کھانے پینے کے اخراجات بھی سرکاری ہوں گے۔
مزید یہ کہ وفد کے قیام کے لیے ہوٹل یا سرکاری رہائش گاہوں کا انتظام کیا جائے گا۔
وفد کی معاونت کے لیے ایک پروٹوکول افسر تعینات کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
وفد کی تشکیل اور رہنمائی کا انتظام
کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ قائمہ کمیٹی مذہبی امور کے سیکریٹری کو بھی وفد میں شامل کیا جائے۔
اسی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کی جامع مسجد کے خطیب کو بطور گائیڈ وفد کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد وفد کی دینی رہنمائی اور مناسک کی درست ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس کی تفصیلات اور عوامی نمائندگی
یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی نے کی۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستانی عوام کی طرف سے روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کے لیے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھیجا جائے۔
کمیٹی نے اس مطالبے کو منظور کر لیا۔
وفد کے اختیارات اور مستقبل کا لائحہ عمل
پارلیمانی وفد پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کرے گا۔
اس کے ساتھ نوافل ادا کیے جائیں گے اور مکہ مکرمہ میں عمرہ بھی کیا جائے گا۔
کمیٹی نے وفد کے ارکان کی تعداد 7 سے بڑھا کر 10 کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وفد کے ارکان کی نامزدگی اسپیکر قومی اسمبلی کریں گے۔
اس کے علاوہ وفد ہر سال مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ جائے گا۔
پاکستان ہاؤس کی تعمیر مکمل ہونے تک وفد کو سرکاری خرچ پر ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا۔
اہل خانہ کی شمولیت سے متعلق فیصلہ
کمیٹی کے مطابق وفد میں شامل ارکان کے اہل خانہ بھی ان کے ہمراہ جا سکیں گے۔
اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے وفود پاکستانی عوام کی طرف سے حاضری دے چکے ہیں۔
حکومت
وزیراعظم شہباز شریف: نوجوانوں کی تعلیم اولین ترجیح

وزیراعظم شہباز شریف کا نوجوانوں کی تعلیم پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بات چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے ملاقات کے دوران کہی۔
اس موقع پر نوجوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
یوتھ پروگرام اور لیپ ٹاپ اسکیم پر بریفنگ
ملاقات کے دوران رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم شہباز شریف کو وزیراعظم یوتھ پروگرام سے متعلق پیش رفت پر بریف کیا۔
خصوصی طور پر لیپ ٹاپ اسکیم کے اہداف، شفافیت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم نے پروگرام کے تحت جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نوجوانوں کی ہنر مندی حکومت کی ترجیح
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نوجوانوں کی ہنر مندی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن وسائل استعمال کرے گی۔
مزید یہ کہ فنی تعلیم، اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے جڑے منصوبوں کو وسعت دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ہی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ یوتھ پروگرام کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






