news
پارا چنار حملہ کیس: سپریم کورٹ کا اہم ریمارکس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پارا چنار حملہ کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی کارروائی کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے تفتیش اور سیکیورٹی کی صورتحال پر سخت سوالات اٹھائے۔
حملہ کیس میں عدالت کے سوالات
سی ٹی ڈی کے وکیل نے بتایا کہ پارا چنار قافلے پر حملے میں 37 افراد جاں بحق ہوئے۔ جبکہ 88 سے زائد زخمی ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ کیا حملہ آوروں میں صرف ایک ہی شخص کی شناخت ہوئی ہے؟ وکیل نے بتایا کہ 9 ملزمان کی ضمانت پہلے ہی خارج ہوچکی ہے۔
پارا چنار حملہ کیس اور بارڈر راستہ
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے:
“جہاں پارا چنار حملہ ہوا، وہ راستہ دوسرے ملک سے آتا ہے۔ اپنا دشمن پہچانیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ امن قائم رہے۔
راستے کب کھلے رہتے ہیں؟
عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ پارا چنار کو جانے والا راستہ روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کھلا رہتا ہے۔ اس دوران سفر محدود ہوتا ہے اور سیکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔
کیس کی آئندہ کارروائی
عدالت نے ملزم کو وکیل مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی گئی۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات میں ریاستی اداروں کو زیادہ چوکنا رہنا چاہیے۔
جرم
بنوں دہشتگرد حملہ ناکام، پولیس کارروائی میں 2 دہشتگرد ہلاک

بنوں دہشتگرد حملہ ناکام، پولیس کی فوری کارروائی
بنوں: صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع بنوں میں پولیس نے بنوں دہشتگرد حملہ بروقت کارروائی سے ناکام بنایا۔ کمپنی روڈ کے قریب ڈومیل پولیس موبائل وین پر دہشتگردوں نے اچانک فائرنگ کی، لیکن پولیس کی جرات مندانہ کارروائی کے باعث حملہ ناکام رہا اور 2 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
فوری رسپانس اور سرچ آپریشن
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کے پو اے پی سی، کوئیک رسپانس فورس اور ریپڈ رسپانس فورس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ سرچ آپریشن کے دوران مارے گئے دہشتگردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی حاصل کیا گیا۔ تمام لاشیں قانونی کارروائی کے لیے کے جی این ہسپتال منتقل کی گئیں۔
بارودی مواد ناکارہ بنانے میں کامیابی
مزید برآں، تھانہ بسیہ خیل میں پولیس نے ایک 5 کلو وزنی بارودی مواد برآمد کیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے بروقت پہنچ کر اسے کامیابی سے ناکارہ بنایا۔ اس سے قبل تھانہ ڈومیل کی حدود میں عیدگاہ روڈ پر 3 کلو گرام وزنی ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیا گیا اور پیشہ ورانہ مہارت سے ناکارہ کیا گیا۔
عوامی تحفظ اور پولیس کی تیاریاں
پولیس کے ترجمان نے کہا کہ علاقے میں ممکنہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے سدباب کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ پولیس عوام کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ دہشتگرد کسی بھی حال میں عوام میں خوف پھیلانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
قانون
سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کی پروموشن پر فیصلہ

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن بحال کر دی
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے اہل افسر کا حق پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال کر دیا۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ اس کے بعد ملازم فخر مجید کی پروموشن 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دی گئی۔
مقدمے کی سماعت اور فیصلہ
اس کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔ مزید برآں، 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ فخر مجید کی استدعا یہ تھی کہ اس کی پروموشن پہلی محکمہ جاتی کمیٹی کے دن سے بحال کی جائے۔
ملازمین کے حقوق پر اثرات
اس فیصلے سے واضح ہوا کہ اہل سرکاری ملازم کو قانونی حق تلفی کے بغیر پروموشن کا حق حاصل ہے۔ تاہم، پنجاب سروس ٹربیونل نے پہلے کہا تھا کہ ملازم کو خالی عہدے کے دن سے پروموشن کا حق نہیں ہوتا، جو سپریم کورٹ نے مسترد کیا۔ اسی لیے یہ فیصلہ دیگر سرکاری ملازمین کے معاملات کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
قانونی اور عملی پہلو
مزید برآں، عدالت نے کہا کہ اہل ملازمین کو پہلی محکمہ جاتی کمیٹی کے دن سے پروموشن کا حق ملنا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد سرکاری دفاتر میں پروموشن کے معاملات پر نئے رجحانات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا





