Connect with us

head lines

سلمان خان کا بلوچستان سے متعلق بیان تنازع کا شکار

Published

on

سلمان خان

بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان کو سعودی عرب کے دورے کے دوران بلوچستان سے متعلق بیان دینا مہنگا پڑ گیا۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔

ان دنوں بالی ووڈ کے تینوں مشہور خانز — سلمان خان، شاہ رخ خان اور عامر خان — سعودی عرب کے خصوصی دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ مختلف تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں اور مداحوں سے ملاقاتوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

ایک میڈیا سیشن کے دوران جب سلمان خان سے غیر ملکی ورکرز سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، “ہمارے ملک سے بہت سے لوگ یہاں (سعودی عرب) آتے ہیں، یہاں بلوچستان، افغانستان اور پاکستان سے بھی لوگ آتے ہیں۔”

سلمان خان کے اس جملے پر سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا۔ پاکستانی صارفین نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اسے علیحدہ ملک کے طور پر بیان کرنا لاعلمی یا جان بوجھ کر سیاسی غلطی ہے۔

ٹوئٹر (ایکس) پر “#SalmanKhan” اور “#Balochistan” ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ صارفین نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “جیسے ہندوستان سے لوگ آتے ہیں، ویسے ہی بلوچستان سے بھی!” کچھ نے اداکار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے کہا کہ یہ بیان بھارتی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جو ہمیشہ پاکستان کے اندرونی معاملات پر رائے دینے سے باز نہیں آتی۔

بھارتی میڈیا نے اس واقعے پر خاموشی اختیار کی ہے، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی ٹیم نے وضاحت دی ہے کہ ان کا مطلب جغرافیائی حوالہ نہیں بلکہ “علاقائی تنوع” تھا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

head lines

سانحہ گل پلازہ رپورٹ: کمشنر کراچی کی تحقیقات مکمل

Published

on

گل پلازہ

سانحہ گل پلازہ رپورٹ مکمل، وزیراعلیٰ سندھ کو پیشی متوقع

سانحہ گل پلازہ رپورٹ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
کمشنر کراچی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کی جائے گی۔
یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے تیار کی ہے۔


آگ لگنے کی وجوہات اور تحقیقات کی تفصیلات

تحقیقاتی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو آپریشن اور فائر بریگیڈ کی کارروائی کی مکمل تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گراؤنڈ فلور پر موجود ایک بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی۔
خاص طور پر ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹس کے ذریعے آگ اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔


اموات اور متاثرہ فلورز کی تفصیل

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک سانحے میں 79 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
زیادہ تر اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں، جہاں دھواں تیزی سے بھر گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔


فائر بریگیڈ اور انتظامیہ کی ٹائم لائن

رپورٹ میں واقعے کا وقت بھی درج کیا گیا ہے۔
آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی۔
پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 37 منٹ پر موقع پر پہنچا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر جنوبی 10 بج کر 30 منٹ پر گل پلازہ پہنچ چکے تھے۔
ریسکیو حکام، عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔


اہم نکات اور آئندہ اقدامات

تحقیقاتی رپورٹ میں مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔
مزید یہ کہ کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی تجویز دی گئی ہے۔

Continue Reading

head lines

سپریم کورٹ کا کرایہ داری پر حتمی فیصلہ، نیا اصول طے

Published

on

سپریم کورٹ Pakistan News

سپریم کورٹ کا کرایہ داری سے متعلق واضح فیصلہ

سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ ملک بھر میں کرایہ داری قوانین کو واضح کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خود بخود مالک ہوں گے۔
لہٰذا نیا کرایہ نامہ بنانا ضروری نہیں ہوگا۔

یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی حکم کے خلاف اپیل پر سنایا گیا۔
دوسری جانب عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
اسی وجہ سے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرنے کا حکم برقرار رکھا گیا۔

قانونی وارث کو کرایہ ادا کرنا لازم

عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس جاری کیا۔
بعد ازاں کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔
تاہم کرایہ داروں نے قانونی وارث کو کرایہ ادا نہیں کیا۔

حالانکہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا۔
اس کے باوجود کرایہ متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
اسی نکتے پر سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ واضح ہو گیا۔

عدالت کا سخت مؤقف

عدالت نے کہا کہ نوٹس کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا درست ادائیگی نہیں۔
چنانچہ قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔
اسی بنا پر ایسے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔

مزید یہ کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لیے کرایہ داروں کا مؤقف مسترد کر دیا گیا۔
نتیجتاً بے دخلی کا حکم برقرار رکھا گیا۔

مستقبل کے مقدمات کے لیے اہم نظیر

سپریم کورٹ کرایہ داری فیصلہ آئندہ مقدمات کے لیے ایک مضبوط قانونی مثال ہے۔
اس فیصلے سے قانونی وارثوں کے حقوق محفوظ ہو گئے ہیں۔
ساتھ ہی کرایہ داری قوانین میں موجود ابہام بھی ختم ہو گیا ہے۔

آخر میں عدالت نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یوں یہ فیصلہ مالکان اور کرایہ داروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~