head lines
الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی الیکشن شیڈول واپس لے لیا

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/07/الیکشن-کمیشن.jpg&description=الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی الیکشن شیڈول واپس لے لیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/07/الیکشن-کمیشن.jpg&description=الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی الیکشن شیڈول واپس لے لیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب بلدیاتی الیکشن کے لیے جاری کیا گیا حلقہ بندیوں کا شیڈول واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پنجاب حکومت کی باضابطہ درخواست پر کیا گیا۔
اجلاس کے دوران سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پنجاب اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 منظور کر لیا ہے، جس کی گورنر پنجاب نے بھی منظوری دے دی ہے۔ اس نئے ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 منسوخ ہوگیا ہے۔ اس لیے پرانے ایکٹ کے تحت جاری حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کو واپس لینا ضروری ہوگیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت کرائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں پرانے شیڈول کو واپس لینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو حلقہ بندی اور ڈیمارکیشن رولز تیار کرنے کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ کمیشن نے تنبیہ کی ہے کہ دی گئی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی، اور اگر مقررہ وقت میں کام مکمل نہ ہوا تو معاملے کی دوبارہ سماعت کرکے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب بلدیاتی الیکشن میں تاخیر کی وجہ نیا ایکٹ اور انتظامی تبدیلیاں ہیں، تاہم نئی قانون سازی کے بعد بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
head lines
آبی ذخائر کا تحفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے پر سخت مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائر نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں پانی کے تحفظ کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ موقع دیرپا آبی پالیسیوں پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے تک محدود نہیں۔
بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہتری کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ایک موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
چنانچہ یہ دن آبی وسائل کے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
نتیجتاً یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی اثرات سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئرز، جھیلیں اور ساحلی نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






