head lines
خواجہ آصف نے افغانستان میں رجیم تبدیلی کا الزام مسترد کیا

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/10/khawaja-Asif.jpeg&description=خواجہ آصف نے افغانستان میں رجیم تبدیلی کا الزام مسترد کیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/10/khawaja-Asif.jpeg&description=خواجہ آصف نے افغانستان میں رجیم تبدیلی کا الزام مسترد کیا', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
اسلام آباد — وزیردفاع خواجہ آصف نے رجیم تبدیلی کا الزام مسترد کیا اور کہا کہ پاکستان کا افغانستان میں کسی حکومت کی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں۔
عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ امریکا کے کہنے پر افغانستان میں رجیم تبدیلی کی سازش کا الزام “بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “طالبان اور امریکا کے درمیان پہلے ہی خوشگوار تعلقات ہیں، ہمیں کسی حکومت کو تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب صرف ایک اچھے پڑوسی کے طور پر افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے۔ ماضی میں پاکستان 40 سال سے زائد افغان معاملات میں الجھا رہا، لیکن اب ہماری پالیسی صرف امن اور استحکام پر مبنی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کے تعلقات سے کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان کے اقدامات ہماری سرحدوں سے تجاوز نہ کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان علاقائی امن چاہتا ہے، تنازع نہیں۔
دوسری جانب رائٹرز سے گفتگو میں وزیر دفاع نے کہا کہ اگر افغانستان کی سرزمین سے کوئی حملہ ہوتا ہے تو اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ طالبان حکومت کو شدت پسند عناصر کو قابو میں رکھنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج کی کارروائیاں” امن معاہدے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ افغان وزیرِ دفاع نے بھی تسلیم کیا کہ سرحد پار دہشتگردی روکنا ضروری ہے۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
head lines
آبی ذخائر کا تحفظ: وزیراعظم شہباز شریف کا پانی کو جنگی ہتھیار بنانے پر سخت مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبی ذخائر کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی ضرورت بن چکا ہے۔
مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائر نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہیں بلکہ سماجی فلاح کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں پانی کے تحفظ کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ موقع دیرپا آبی پالیسیوں پر عمل درآمد کا تقاضا بھی کرتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر کا تحفظ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے تک محدود نہیں۔
بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی بہتری کی ضمانت بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال آبی ذخائر کا عالمی دن ایک موزوں عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
چنانچہ یہ دن آبی وسائل کے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق قابلِ بھروسا آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔
نتیجتاً یہ ذخائر خشک سالی، سیلاب اور شدید موسمیاتی اثرات سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے گلیشیئرز، جھیلیں اور ساحلی نظام حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






