خاص رپورٹ
وفاقی کابینہ اجلاس میں اہم فیصلوں کا امکان — وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت میٹنگ

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے، جس میں اہم فیصلوں کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف وفاقی دارالحکومت میں کابینہ کے اراکین کے ساتھ اہم ملکی امور پر مشاورت کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سیاسی اور معاشی صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہو رہی ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم نے آج جمعرات کے روز کابینہ اجلاس طلب کیا تھا۔
اجلاس میں ملکی پالیسی امور کے ساتھ ساتھ اہم حکومتی فیصلوں کی باضابطہ منظوری دی جانے کی توقع ہے۔
خاص رپورٹ
ماہِ شعبان کی فضیلت، رمضان کی تیاری کا بابرکت مہینہ

ماہِ شعبان کی فضیلت اسلامی سال میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
شعبان اسلامی تقویم کا آٹھواں مہینہ ہے جو رمضان المبارک سے پہلے آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس مہینے کو رمضان کی تیاری کا بہترین موقع قرار دیا گیا ہے۔
درحقیقت، رمضان اپنی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے سبب بہارِ ایمان کہلاتا ہے۔
چنانچہ اس عظیم مہینے کی تیاری اگر ماہِ شعبان سے شروع ہو تو اس کی عظمت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اسی لیے علماء کرام شعبان کو رمضان کا مقدمہ بھی کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں چند مہینوں کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی۔
ان میں ماہِ شعبان کو حضور نبی کریم ﷺ سے خاص نسبت حاصل ہے۔
آپ ﷺ نے اسے اپنا مہینہ قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ اس میں عبادات کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
نبی کریم ﷺ رجب کا چاند دیکھ کر دعا فرمایا کرتے تھے:
“اے اللہ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا دے”
(مشکوٰۃ المصابیح)
ماہِ شعبان کی فضیلت اس اعتبار سے بھی نمایاں ہے کہ اسی مہینے میں تحویلِ قبلہ کا عظیم حکم نازل ہوا۔
اسی ماہ تیمم کے احکام آئے اور غزوہ بنو المصطلق پیش آیا۔
اسی مہینے آپ ﷺ نے حضرت حفصہؓ اور حضرت جویریہؓ سے نکاح فرمایا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو شعبان کے روزے بہت محبوب تھے۔
آپ ﷺ کثرت سے روزے رکھتے یہاں تک کہ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔
اسی طرح حضرت اُمِ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے شعبان اور رمضان کے علاوہ دو مہینے مسلسل روزوں میں نہیں دیکھے۔
حضرت اسامہؓ کی روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں، حالانکہ اسی میں اعمال اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔
میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل روزے کی حالت میں پیش ہو۔
لغوی اعتبار سے “شعبان” کا مطلب پھیلنا یا شاخ در شاخ ہونا ہے۔
چونکہ اس مہینے میں نیکیوں کے مواقع بڑھ جاتے ہیں، اس لیے یہ نام رکھا گیا۔
آخر میں، ہمیں چاہیے کہ ماہِ شعبان کی فضیلت کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادات کریں۔
نفلی روزے رکھیں، درود شریف کی کثرت کریں اور رمضان کے لیے خود کو روحانی طور پر تیار کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت مہینے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں رمضان المبارک تک خیریت سے پہنچائے، آمین۔
head lines
پولیو مہم 2026: ملک بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

پولیو مہم 2026 کا آغاز: ملک کے 159 اضلاع شامل
ملک کے 159 اضلاع میں پولیو مہم 2026 2 تا 8 فروری 2026 کے دوران منعقد کی جائے گی۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (N-EOC) کے مطابق پہلی مہم میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
والدین اور پولیو ورکرز کی ذمہ داریاں
اس مہم میں 4 لاکھ سے زائد مرد و خواتین پولیو ورکرز حصہ لیں گے اور اپنے فرائض انجام دیں گے۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ورکرز کے لیے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو قطرے لازمی پلائیں۔ وزارت صحت نے کہا کہ پیدائش سے 15 ماہ تک تمام بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل ہونا انتہائی ضروری ہے۔
پولیو مہم 2026 میں تعاون کیسے کریں
والدین اور سرپرست مہم کے دوران 1166 پر کال کر کے یا 0346-7776546 پر واٹس ایپ پیغام بھیج کر مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مقامی کمیٹیاں اور صحت کے مراکز والدین کی رہنمائی کریں گے تاکہ ہر بچہ مہم میں شامل ہو سکے۔
پولیو وائرس کے خاتمے کے اقدامات
حکام نے کہا ہے کہ پولیو مہم 2026 ملک سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ والدین کی شمولیت اور تعاون کے بغیر مہم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ملک بھر میں ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کی صحت اور مستقبل محفوظ بنایا جائے گا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






