news
عالمی بینک کی رپورٹ: پاکستان میں غربت 8 سال کی بلند ترین سطح پر

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/09/pic_8a997_1758725925.jpg&description=عالمی بینک کی رپورٹ: پاکستان میں غربت 8 سال کی بلند ترین سطح پر', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/09/pic_8a997_1758725925.jpg&description=عالمی بینک کی رپورٹ: پاکستان میں غربت 8 سال کی بلند ترین سطح پر', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
پاکستان میں غربت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اور عالمی بینک نے حالیہ رپورٹ میں ملک کے معاشی ترقی کے ماڈل کو ناکام قرار دے دیا ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق عالمی بینک کی رپورٹ “Reclaiming Momentum Towards Prosperity” نے پاکستان میں غربت، مساوات اور معاشی لچک سے متعلق کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح 2023-24 میں 25.3 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو کہ گزشتہ 8 سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف تین برسوں میں غربت میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں، بین الاقوامی غربت لائن کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 44.7 فیصد ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان کا معاشی ترقی کا وہ ماڈل، جو 2001 سے 2015 کے درمیان غربت میں سالانہ اوسطاً 3 فیصد کمی لانے میں مؤثر تھا، اب غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ 2015 سے 2018 تک یہ کمی محض 1 فیصد سالانہ رہی، اور پھر 2022 کے سیلاب کے بعد غربت میں 5.1 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے 1 کروڑ 30 لاکھ افراد دوبارہ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ابھرتا ہوا متوسط طبقہ، جو ملک کی کل آبادی کا 42.7 فیصد ہے، اب بھی بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، نکاسیٔ آب، سستی توانائی اور مناسب رہائش سے محروم ہے۔ اس سے پاکستان میں کمزور عوامی خدمات اور ناقص حکومتی پالیسیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 15 سے 24 سال کے عمر کے نوجوانوں میں 37 فیصد ایسے ہیں جو نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی ملازمت یا تربیت میں شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار لیبر مارکیٹ کی کمزور حالت اور نوجوانوں کی معاشی شرکت میں کمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
مزید برآں، 2022-23 میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب افراطِ زر میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس نے خاندانوں کی قوتِ خرید اور حقیقی آمدنی کو شدید متاثر کیا۔ عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ تاریخی طور پر غربت اور عدم مساوات میں کمی کے لیے معاون نہیں رہا۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






