news
سپارکو ڈے پر پاکستان کے خلائی مشنز کی کامیابی پر یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

سپارکو ڈے کے موقع پر پاکستان کے خلائی مشنز کی شاندار کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے، جو ملکی خلائی تحقیق میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔سپارکو ڈے یہ ٹکٹ تین اہم مشنز — آئی کیوب-قمر، پاک سیٹ-MM1 اور ای او-1 — کے اعزاز میں جاری کیے گئے ہیں۔ آئی کیوب-قمر، پاکستان کا پہلا قمری کیوب سیٹلائٹ ہے جسے 3 مئی 2024 کو چین کے مشن چانگ ای-6 کے ذریعے لانچ کیا گیا۔ اس مشن نے چاند کے مدار میں کامیابی سے کام کیا اور چاند و سورج کی تصاویر حاصل کیں۔ پاک سیٹ-MM1 ایک جیو اسٹیشنری کمیونیکیشن سیٹلائٹ ہے جو 30 مئی 2024 کو لانچ ہوا اور اب نشریاتی، ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروسز کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ اسی طرح، ای او-1 ایک مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ مشاہداتی سیٹلائٹ ہے، جو 17 جنوری 2025 کو لانچ ہوا اور اب زراعت، شہری ترقی، ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات کے ردعمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ سپارکو کے ترجمان کے مطابق، یہ ڈاک ٹکٹ نہ صرف ان مشنز کو خراج تحسین ہیں بلکہ پاکستان کی خلائی تحقیق میں خود انحصاری اور تسلسل کی علامت بھی ہیں۔
news
افواجِ پاکستان کا عزم: وطن کی خدمت اور قربانی پر نغمہ

افواجِ پاکستان کا عزم: نغمے میں جذبے کی عکاسی
یہ نغمہ شدید موسمی حالات، برفانی طوفانوں اور ناقابلِ برداشت سردی میں افواجِ پاکستان کا عزم دکھاتا ہے۔
نغمے کے بول میں وطن کی سرحدوں کے دفاع اور مشکل حالات میں قوم کی خدمت میں مصروف فوج کی غیر معمولی فرض شناسی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ نغمے میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پاک فوج شب و روز ہر خطرے کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
یہ ان کے بلند حوصلے اور غیر متزلزل جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قوم کی امیدیں اور فوج کا اعتماد
قدرتی آفات اور دیگر آزمائشوں کی ہر گھڑی میں پوری قوم افواجِ پاکستان کو اپنا مضبوط سہارا سمجھتی ہے۔
مزید یہ کہ پاک فوج نے ہر محاذ پر قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کا ثبوت دیا ہے۔
نغمے کے دل کو چھو لینے والے بول اور سحر انگیز آواز نے سماں باندھ دیا ہے، جو قوم میں پاک فوج سے والہانہ محبت، اعتماد اور فخر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
news
پاکستان میں پانی کی قلت اور سبسڈی اصلاحات: عالمی بینک رپورٹ

پاکستان میں پانی کی قلت اور زرعی چیلنجز
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
جنوبی ایشیا میں زیرِ زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہے۔
ناقص آب پاشی نظام اور غیر مؤثر زرعی طریقے پانی کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔
تاہم پنجاب میں جدید آب پاشی منصوبے کے نتیجے میں 57 فیصد پانی کی بچت ہوئی ہے۔
مزید برآں، جدید زرعی منصوبوں سے فصلوں کی پیداوار میں 14 سے 31 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پانی کی مؤثر استعمال اور جدید زرعی طریقے پیداوار میں بہتری لاسکتے ہیں۔
سبسڈی اصلاحات اور سماجی تحفظ
پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
اس اقدام سے سبسڈی کی غلط تقسیم، مالی نقصان اور سرکلر ڈیٹ میں کمی آئے گی۔
بی آئی ایس پی کے ذریعے دی جانے والی امداد کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
مثال کے طور پر کرونا کے دوران ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی۔
کلائمٹ رسک اور چھوٹے کاروباروں کی حمایت
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کاروباروں کے لیے کلائمٹ رسک فیسلٹی قائم کی جا رہی ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان اور مالدیپ میں امداد کے لیے خود رجسٹریشن کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کو سماجی تحفظ کے پروگراموں میں استعمال کرنے سے براہِ راست فائدہ ہوگا اور مالی وسائل مؤثر طریقے سے خرچ ہوں گے۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے






