Connect with us

news

علیمہ خان کا انکشاف: عمران خان کو ایک اور مقدمے میں سزا سنانے کی تیاری

Published

on

علیمہ خان

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور عدالتی نظام کی جانب سے عمران خان کو ایک اور مقدمے میں سزا دلوانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے لیے پہنچی تھیں۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ جان بوجھ کر مین اسٹریم میڈیا سے بات نہیں کریں گی کیونکہ وہاں پلانٹ کیے گئے افراد بدتمیزی کے ذریعے اشتعال پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات درج کیے جا سکیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میڈیا کو بدتمیزی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، حالانکہ دو سال سے یہ میڈیا اسی جگہ کوریج کر رہا تھا اور ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

علیمہ نے مزید کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت میں جلد بازی سے کام لیا جا رہا ہے کیونکہ عمران خان کو سزا سنانا طے شدہ پلان کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق عمران خان خود بھی جانتے ہیں کہ اس کیس میں انہیں سزا سنائی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے “اپنی نوکری پکی” کر لی ہے مگر کیس سننے سے گریزاں ہیں، حالانکہ انہیں چھ ماہ پہلے ہی ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔

علیمہ خان نے دعویٰ کیا کہ جج شاہ رخ ارجمند اور جسٹس ڈوگر کے درمیان باقاعدہ کوآرڈینیشن موجود ہے، اور یہ سب کچھ ایک طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہے، جس کے تحت عمران خان کو پہلے توشہ خانہ ٹو میں سزا دی جائے گی، اور پھر القادر کیس میں ضمانت دی جائے گی تاکہ قانونی توازن کا دکھاوا کیا جا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف اہم مقدمات کی سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، اور سیاسی ماحول ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھ رہا ہے

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

بنوں دہشتگرد حملہ ناکام، پولیس کارروائی میں 2 دہشتگرد ہلاک

Published

on

ٹانک میں ججز کی گاڑی پر دہشت گردوں کا حملہ، دو سیکیورٹی اہلکار شہید

بنوں دہشتگرد حملہ ناکام، پولیس کی فوری کارروائی

بنوں: صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع بنوں میں پولیس نے بنوں دہشتگرد حملہ بروقت کارروائی سے ناکام بنایا۔ کمپنی روڈ کے قریب ڈومیل پولیس موبائل وین پر دہشتگردوں نے اچانک فائرنگ کی، لیکن پولیس کی جرات مندانہ کارروائی کے باعث حملہ ناکام رہا اور 2 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

فوری رسپانس اور سرچ آپریشن

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کے پو اے پی سی، کوئیک رسپانس فورس اور ریپڈ رسپانس فورس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ سرچ آپریشن کے دوران مارے گئے دہشتگردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ان کے قبضے سے اسلحہ بھی حاصل کیا گیا۔ تمام لاشیں قانونی کارروائی کے لیے کے جی این ہسپتال منتقل کی گئیں۔

بارودی مواد ناکارہ بنانے میں کامیابی

مزید برآں، تھانہ بسیہ خیل میں پولیس نے ایک 5 کلو وزنی بارودی مواد برآمد کیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے بروقت پہنچ کر اسے کامیابی سے ناکارہ بنایا۔ اس سے قبل تھانہ ڈومیل کی حدود میں عیدگاہ روڈ پر 3 کلو گرام وزنی ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیا گیا اور پیشہ ورانہ مہارت سے ناکارہ کیا گیا۔

عوامی تحفظ اور پولیس کی تیاریاں

پولیس کے ترجمان نے کہا کہ علاقے میں ممکنہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے سدباب کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ پولیس عوام کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ دہشتگرد کسی بھی حال میں عوام میں خوف پھیلانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

Continue Reading

قانون

سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کی پروموشن پر فیصلہ

Published

on

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن بحال کر دی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے اہل افسر کا حق پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال کر دیا۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیا۔ اس کے بعد ملازم فخر مجید کی پروموشن 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دی گئی۔

مقدمے کی سماعت اور فیصلہ

اس کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔ مزید برآں، 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے جاری کیا۔ عدالت نے کہا کہ فخر مجید کی استدعا یہ تھی کہ اس کی پروموشن پہلی محکمہ جاتی کمیٹی کے دن سے بحال کی جائے۔

ملازمین کے حقوق پر اثرات

اس فیصلے سے واضح ہوا کہ اہل سرکاری ملازم کو قانونی حق تلفی کے بغیر پروموشن کا حق حاصل ہے۔ تاہم، پنجاب سروس ٹربیونل نے پہلے کہا تھا کہ ملازم کو خالی عہدے کے دن سے پروموشن کا حق نہیں ہوتا، جو سپریم کورٹ نے مسترد کیا۔ اسی لیے یہ فیصلہ دیگر سرکاری ملازمین کے معاملات کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

قانونی اور عملی پہلو

مزید برآں، عدالت نے کہا کہ اہل ملازمین کو پہلی محکمہ جاتی کمیٹی کے دن سے پروموشن کا حق ملنا چاہیے۔ اس فیصلے کے بعد سرکاری دفاتر میں پروموشن کے معاملات پر نئے رجحانات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~