news
پنجاب میں دہائیوں کا بدترین سیلاب: لاکھوں افراد متاثر، متعدد علاقے زیر آب
پنجاب میں سیلاب نے گزشتہ چار دہائیوں کی سب سے شدید تباہی مچا دی ہے۔ صوبے بھر میں لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی، ہزاروں دیہات زیرِ آب آ گئے، اور مواصلاتی نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا۔ پنجاب دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے، پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے، جہاں مکینوں کو گھروں کی چھتوں پر پناہ لینا پڑی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملک بھر میں مسلسل بارشوں اور بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے۔ لاہور کے کئی علاقوں جیسے شاہدرہ، فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد، اور مریدوالا میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔
فیصل آباد کے تاندلیانوالہ، وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن جیسے شہروں کے نشیبی دیہات بھی پانی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جہاں زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جبکہ ملتان میں بھی آئندہ 48 گھنٹوں میں خطرناک ریلے کے داخل ہونے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر ہیڈ محمد والا پر حفاظتی بریچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، سیلاب سے اب تک 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، 1692 موضع جات زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ 17 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے 1372 متاثرہ افراد 355 ریلیف کیمپس میں رہائش پذیر ہیں اور 6656 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
چناب دریا میں 991 دیہات، سیالکوٹ میں 395، جھنگ میں 127، ملتان میں 124، چنیوٹ میں 48، گجرات میں 66، خانیوال میں 51، حافظ آباد میں 45، سرگودھا میں 41، منڈی بہاؤالدین میں 35 اور وزیرآباد میں 19 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے راوی کے سبب نارووال کے 75، شیخوپورہ کے 4 اور ننکانہ صاحب کے ایک گاؤں سمیت 11 ہزار افراد اور 4500 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔
دریائے ستلج میں بھی تباہی کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، جہاں 361 دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ملتان، وہاڑی، بہاول نگر اور بہاولپور شامل ہیں۔ یہاں سے ایک لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد اور 70 ہزار مویشی محفوظ کیے گئے ہیں۔
یہ سیلاب نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے بلکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں، جس سے غذائی قلت اور معاشی نقصانات کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ حکومتی ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں صورتحال تاحال قابو میں نہیں آ سکی۔
news
کراچی: ڈکیتی کیس میں 2 ٹک ٹاکرز کی ضمانت منظور، 2 کی مسترد
کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں ڈکیتی کیس میں گرفتار 4 ٹک ٹاکرز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے دو ملزمان کو ضمانت دے دی جبکہ باقی دو کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
فیصلے کے مطابق ملزمان شہروز اور نمرا کی ضمانت منظور کرلی گئی۔ مزید برآں، دونوں کو فی کس ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
تاہم عدالت نے ملزم شہریار اور ملزمہ یسریٰ کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 26 جون کو شو روم مالک کے گھر ڈکیتی کی۔
واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ فیروز آباد میں 13 کروڑ روپے ڈکیتی کا مقدمہ درج ہے۔
news
کنگری میں کشتی ڈوب گئی، مقامی افراد نے 6 افراد کو بچالیا
سندھ کے علاقے کنگری میں کشتی ڈوب گئی۔ خوش قسمتی سے مقامی افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام 6 افراد کو زندہ بچالیا۔
رپورٹ کے مطابق حادثہ کھرل آباد میں پیش آیا۔ کشتی میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد موجود تھے۔ ان کے ساتھ 3 موٹر سائیکلیں اور قیمتی سامان بھی تھا۔
مزید برآں، مقامی افراد نے بروقت کوشش کر کے انسانی جانیں بچالیں۔ تاہم سامان اور موٹر سائیکلیں پانی میں ڈوب گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے خدشے کے باعث خاندان نقل مکانی کررہا تھا۔ اسی دوران کنگری کے قریب کشتی الٹ گئی اور یہ حادثہ پیش آیا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل3 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news4 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news4 months ago
وزیر دفاع خواجہ آصف: پاکستان کے وجود کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے