news
قومی اسمبلی ارکان کو 1 ارب 16 کروڑ کے مفت سفری واؤچرز

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/08/national-assembly.jpg&description=قومی اسمبلی ارکان کو 1 ارب 16 کروڑ کے مفت سفری واؤچرز', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2024/08/national-assembly.jpg&description=قومی اسمبلی ارکان کو 1 ارب 16 کروڑ کے مفت سفری واؤچرز', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کے ارکان کو 1 ارب 16 کروڑ روپے کے مفت سفری واؤچرز دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی ایک آڈٹ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2021-22 سے 2023-24 کے دوران قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اراکین اسمبلی کو بڑی تعداد میں مفت سفری سہولیات فراہم کیں۔ ان میں سے 16 کروڑ 10 لاکھ روپے کی رقم ایسے واؤچرز سے متعلق ہے، جن کے جاری ہونے اور اخراجات میں تضاد پایا گیا۔
آڈٹ حکام نے اس صورتحال کو بے ضابطہ اور غیر مجاز اخراجات قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ان واؤچرز سے متعلق تفصیلی بجٹ سازی میں ناکام رہا۔ ان اخراجات کا کوئی شفاف ریکارڈ اسٹیٹ بینک اور اے جی پی آر میں واضح طور پر درج نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، 31 جنوری 2025 کو ہونے والے ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) اجلاس میں قومی اسمبلی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام متعلقہ ریکارڈ درست کر کے آڈٹ حکام کو فراہم کرے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ یہ سفری واؤچرز دراصل قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں، اور ان کی مالی رپورٹنگ میں شدید انتظامی خامیاں پائی گئی ہیں۔
صحافی کی جانب سے تبصرے کے لیے رابطہ کیے جانے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے باضابطہ موقف دینے سے گریز کیا۔ تاہم ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ زیادہ تر واؤچرز سندھ اور بلوچستان کے اراکین سے متعلق ہیں، جن کا تفصیلی بجٹ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، اور اس عمل میں وقت درکار ہے۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






