Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the rocket domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the zox-news domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131

Deprecated: Function WP_Dependencies->add_data() was called with an argument that is deprecated since version 6.9.0! IE conditional comments are ignored by all supported browsers. in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
اسحاق ڈار کا بھارت کے یکطرفہ فیصلے پر سخت ردعمل، پانی کا مسئلہ زندگی اور موت ہے
Notice: Function WP_Styles::add was called incorrectly. The style with the handle "ql-main" was enqueued with dependencies that are not registered: ql-bootstrap. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.9.1.) in /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
Connect with us

news

اسحاق ڈار کا بھارت کے یکطرفہ فیصلے پر سخت ردعمل، پانی کا مسئلہ زندگی اور موت ہے

Published

on

اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا مسئلہ ہے اور بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ معاہدہ بین الاقوامی ضمانتوں کے تحت طے پایا تھا اور اسے صرف باہمی اتفاق سے ہی معطل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے اگرچہ براہ راست پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن ہمیں اندازہ تھا کہ جلد یا بدیر الزامات پاکستان پر ہی آئیں گے۔ بھارت کے پاس کوئی شواہد نہیں ہیں کہ اس واقعے میں پاکستان ملوث ہے، اور ایسی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو یہ اقدام جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کا رویہ ہے۔ سارک جیسے علاقائی تعاون کے فورمز کی ترقی میں بھی بھارت کی ہٹ دھرمی آڑے آتی رہی ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بھارت نے اٹاری بارڈر بند کیا تو پاکستان نے فوری طور پر واہگہ بارڈر بند کر دیا۔ سارک ویزا اسکیم کے تحت پاکستان میں موجود بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم سکھ یاتریوں کو استثنا حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں حکومت نے دو اہم فیصلے کیے ہیں۔ بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت فوری طور پر بند کر دی گئی ہے اور کوئی تیسرا ملک بھی پاکستان کے راستے بھارت سے تجارت نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ بھارت کی تمام ایئرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اب ان پروازوں کو اضافی وقت اور ایندھن خرچ کرنا پڑے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پر ایک پیج پر ہیں، اور قومی مفاد میں اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سفارتی سطح پر بھی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں، 26 ممالک کے سفیروں کو بریفنگ دی جا چکی ہے اور دیگر کو بھی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج شام سعودی وزیر خارجہ سے اہم گفتگو طے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا دورہ ڈھاکہ منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ افغانستان کے دورے کے دوران افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ نہ تو پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہوگی اور نہ ہی افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی روئیے کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

news

پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

Published

on

پٹرولیم لیوی پٹرولیم مصنوعات

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔

Continue Reading

head lines

پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

Published

on

پاکستان قازقستان تعاون

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔

تجارت اور ریلوے میں اشتراک

سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔

مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون

اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔

قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ

دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

Continue Reading

Trending

backspace
caps lock enter
shift shift
صحافت نیوز کی بورڈ Sahafatnews.com   « » { } ~