news
بھارت میں حکومتِ پاکستان کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ بلاک، سفارتی تعلقات محدود

- /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 27
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/04/pic_459a4_1745477453.jpg&description=بھارت میں حکومتِ پاکستان کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ بلاک، سفارتی تعلقات محدود', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
- Share
- Tweet /home/u849082955/domains/sahafat.com/public_html/wp-content/plugins/mvp-social-buttons/mvp-social-buttons.php on line 72
https://sahafat.com/wp-content/uploads/2025/04/pic_459a4_1745477453.jpg&description=بھارت میں حکومتِ پاکستان کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ بلاک، سفارتی تعلقات محدود', 'pinterestShare', 'width=750,height=350'); return false;" title="Pin This Post">
بھارت میں حکومتِ پاکستان کے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کو بلاک کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، بھارتی حکومت نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں حکومتِ پاکستان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کی بھارت میں رسائی روکنے کا اقدام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ایک ہفتے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ بھارتی حکومت نے اپنے فوجی مشیروں کو بھی اسلام آباد سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (CCS) کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے خلاف کئی اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔ ان اقدامات میں سفارتی تعلقات کی سطح میں کمی، ویزہ سہولیات کی مکمل معطلی، دفاعی مشیروں کی بے دخلی، اور اٹاری واہگہ سرحد کی بندش شامل ہے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک کے سفارت خانوں میں عملے کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کر دی جائے گی، اور یہ فیصلہ یکم مئی تک مکمل طور پر نافذ العمل ہوگا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری وکرم مِسری نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ بھارت نے سارک ویزہ استثنیٰ سکیم کو معطل کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو جاری تمام ویزے فوری طور پر منسوخ کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اٹاری کی واحد زمینی سرحدی چوکی کو بھی بند کر دیا گیا ہے، اور پاکستان سے بھارت میں موجود افراد کو یکم مئی سے قبل ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
بھارتی حکومت نے سندھ طاس معاہدے کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاہدہ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق عالمی ثالثی اور ورلڈ بینک کی ضمانت کے تحت طے پایا تھا، اور اس کی معطلی کو ماہرین بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
پاکستانی حکام نے بھارتی اقدامات کو غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس کا سفارتی، قانونی اور سیاسی سطح پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔
news
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے اضافہ، نئی قیمت جاری

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک بار پھر مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیزل 7 روپے 32 پیسے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے۔
نئی قیمت کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بل ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔
ایسے میں پٹرول قیمت اضافہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات بڑھا دے گا۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی کے حالات کے مطابق کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مالی دباؤ کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی ساتھ متعارف کرائے جائیں۔
head lines
پاکستان قازقستان تعاون، اہم معاہدوں پر دستخط

پاکستان قازقستان تعاون کو نئی سمت مل گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف بھی تقریب میں شریک تھے۔
بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔
تجارت اور ریلوے میں اشتراک
سب سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
اسی طرح ریلوے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔
مزید برآں پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
کان کنی، پیٹرولیم اور سیکیورٹی تعاون
اس کے علاوہ کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کے امن دستوں سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے۔
قیدیوں کا تبادلہ اور میری ٹائم شعبہ
دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا۔
مزید یہ کہ میری ٹائم شعبے میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
نتیجتاً پاکستان قازقستان تعاون کو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
- news7 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل10 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news11 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news11 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






