news
عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر علیمہ خان کا ردعمل: عدالت کی توہین ہو رہی ہے

علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کو وکلا سے مشاورت سے روکنا دراصل عدالت کی توہین ہے، ہماری نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ منگل کا دن عمران خان کے قانونی کیسز کے حوالے سے ملاقات کے لیے مختص ہے، لیکن عدالت کے واضح احکامات کے باوجود وکلا کو جیل کے باہر ہی روک دیا گیا اور انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر وکیل سلمان صفدر اڈیالہ جیل گئے تھے اور عدالت نے وکلا کی فہرست جاری کرنے کی ہدایت کی تھی، مگر اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
علیمہ خان نے کہا کہ یہ سب اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عمران خان کے کیسز کو خراب کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عدالت نے اجازت دی ہے تو اس کے باوجود رکاوٹیں ڈالنا عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک وکلا کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، کسی اور کو عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے کی ضرورت نہیں۔
گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان، اور نورین نیازی سمیت پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب، زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا، احمد خان بھچر اور دیگر کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ان سب کو عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل جانے سے روکا گیا۔ علیمہ خان نے گرفتاری کے وقت کہا تھا کہ وہ ہمیں چاہے بیابان میں چھوڑ دیں، لیکن ہم واپس آئیں گے اور تب تک آئیں گے جب تک یا تو ملاقات ہو جائے یا ہمیں جیل میں ڈال دیا جائے۔
اسی دوران علیمہ خان نے سڑک پر دریاں بچھا کر دھرنے کی کوشش کی، مگر پولیس نے اس دھرنے کو ناکام بنا دیا اور موجود کارکنوں کو منتشر کر دیا۔ عمر ایوب کو بھی گورکھ پور ناکے پر روکا گیا، جہاں وہ کئی گھنٹے پولیس کی نگرانی میں بیٹھے رہے۔ بعد میں وہ موٹر سائیکل کے ذریعے کچے راستوں سے داہگل پہنچے، جہاں پولیس کی نفری نے انہیں واپس جانے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ بالآخر پولیس نے تمام رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں کو چکری انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا، جہاں سے وہ روانہ ہوگئے۔
یہ تمام واقعات عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک منظم کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جس پر پی ٹی آئی کی قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
news
عمران خان سے ملاقات: بیرسٹر گوہر خان کی خبروں کی تردید

عمران خان سے ملاقات: بیرسٹر گوہر خان کا واضح مؤقف
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے عمران خان سے ملاقات سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
اس حوالے سے انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر وضاحتی بیان جاری کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سے عمران خان سے ملاقات کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کی حقیقت
بیرسٹر گوہر خان کے مطابق یہ خبر غلط ہے کہ انہوں نے ملاقات کے لیے کسی فیملی ممبر یا وکیل کو ساتھ لے جانے کی شرط رکھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کوئی شرط کبھی نہیں لگائی گئی۔
مزید یہ کہ انہوں نے اس خبر کی تصدیق کے لیے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم سے رابطہ کیا۔
شیخ وقاص اکرم نے نہ صرف اس خبر کی تردید کی بلکہ ٹی وی پر آ کر بھی وضاحت کی۔
اڈیالہ جیل جانے کا معمول
چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ وہ ہر منگل کو اڈیالہ جیل جاتے ہیں۔
وہ ملاقات کا وقت ختم ہونے تک وہاں موجود رہتے ہیں۔
بعد ازاں پولیس کی جانب سے روکے جانے پر واپس آ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دن بھی وہ اسی معمول کے مطابق گئے اور واپس آئے۔
حکومت یا جیل حکام کی جانب سے کوئی پیشکش نہیں
اس کے علاوہ بیرسٹر گوہر خان نے واضح کیا کہ حکومت یا جیل حکام نے انہیں کبھی ملاقات کی پیشکش نہیں کی۔
لہٰذا کسی شرط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے متعلق خبریں انتہائی سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہیں۔
اس لیے ایسی اطلاعات صرف مستند ذرائع سے ہی شائع ہونی چاہئیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل
آخر میں چیئرمین پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، وی لاگرز اور یوٹیوبرز سے اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے متعلق خبریں بغیر تصدیق کے نہ پھیلائی جائیں۔
اسی طرح مین اسٹریم میڈیا سے بھی گزارش کی گئی کہ خبر شائع کرنے سے پہلے تصدیق کی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات سے رابطہ کر کے معلومات کی تصدیق ضروری ہے۔
تاکہ افواہوں کی بنیاد پر کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
news
وزیراعظم شہباز شریف کا پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

پولیو کا خاتمہ: حکومت پاکستان کی اولین ترجیح
پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
مزید یہ کہ وزیراعظم کے مطابق پاکستان جلد پولیو فری ملک بنے گا۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جاری مہم مثبت نتائج دے رہی ہے۔
عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری
اسی دوران وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک عالمی شراکت داروں کا تعاون جاری رکھا جائے گا۔
خصوصاً بل گیٹس فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہا گیا۔
یہ بات انہوں نے گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی کرس ایلیاس سے ملاقات میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ بل گیٹس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مزید برآں وزیراعظم نے سعودی عرب سمیت مسلم ممالک کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
انسداد پولیو مہم: کامیابیاں اور درپیش چیلنجز
اگرچہ انسداد پولیو مہم میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں،
تاہم وزیراعظم کے مطابق مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔
اسی لیے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
تاکہ پولیو ٹیموں کی رسائی ہر علاقے تک ممکن بنائی جا سکے۔
وفاقی وزارتِ صحت کو واضح ہدایات
اس کے علاوہ وزیراعظم نے وفاقی وزارتِ صحت کو اہم ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی مہم مزید مؤثر بنائی جائے۔
ساتھ ہی ویکسین کی بروقت فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ادارے مل کر سفارشات مرتب کریں۔
پولیو کا خاتمہ: قومی اور عالمی ذمہ داری
ماہرین کے مطابق پولیو کا خاتمہ قومی صحت کا اہم معاملہ ہے۔
اسی طرح یہ عالمی سطح پر پاکستان کے اعتماد سے بھی جڑا ہے۔
لہٰذا حکومت، عالمی اداروں اور عوام کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
تب ہی پاکستان کو پولیو فری بنایا جا سکے گا۔
- news5 months ago
14 سالہ سدھارتھ ننڈیالا کی حیران کن کامیابی: دل کی بیماری کا پتہ چلانے والی AI ایپ تیار
- کھیل8 months ago
ایشیا کپ 2025: بھارت کی دستبرداری کی خبروں پر بی سی سی آئی کا ردعمل
- news9 months ago
رانا ثناءاللہ کا بلاول کے بیان پر ردعمل: سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کریں گے
- news9 months ago
اداکارہ علیزہ شاہ نے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا






